Al-Risala · April 1981 · page 28

مجھے آخرت تک جانا ہے

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۱، صفحہ ۲۸

پس مائل کر لیا ان کو فریب سے ۔ پھر جب دونوں نے درخت کا پھل چکھا تو ان کی شرمگاہیں ان پر کھل گئیں۔ اور وہ اپنے کو باغ کے پتوں سے ڈھانکنے لگے اور ان کے رب نے ان کو پکارا کہ کیا میں نے تمہیں اس درخت سے منع نہیں کیا تھا اور یہ نہیں کہا تھا کہ شیطان تمھارا کھلا ہو دشمن ہے۔ انھوں نے کہا، اے ہمارے رب ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور اگر تو ہم کو معاف نہ کرے اور ہم پر رحم نہ کرے تو ہم گھاٹا اٹھانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔ خدا نے کہا، اترو، تم ایک دوسرے کے دشمن ہو گے، اور تمھارے لئے زمین میں ایک خاص مدت تک ٹھہرنا اور نفع اٹھانا ہے۔ خدا نے کہا، اسی میں تم جیو گے اور اسی میں تم مرو گے اور اسی سے تم نکالے جاؤ گے ۲۵ - ۲۲ آدم اور شیطان دونوں ایک دوسرے کے دشمن کی حیثیت سے زمین پر بھیجے گئے ہیں۔ اب قیامت تک دونوں کے درمیان یہی جنگ جاری ہے۔ شیطان کی مسلسل کوشش یہ ہے کہ وہ انسان کو اپنے راستہ پر لائے اور جس طرح وہ خود خدا کی رحمت سے محروم ہوا ہے انسان کو بھی خدا کی رحمت سے محروم کر دے۔ اس کے مقابلہ میں انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ شیطان کے منصوبہ کو ناکام بنا دے۔ وہ شیطان کی پکار کو نظر انداز کر کے خدا کی پکار کی طرف دوڑے ۔ آدم اور شیطان کی یہ جنگ عملاً انسانوں میں دو گروہ بن جانے کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔ کچھ لوگ شیطان کی ترغیبَات کا شکار ہو کر اس کی صف میں شامل ہو جاتے ہیں۔ اور کچھ لوگ خدا کی آواز پر لبیک کہہ کر یہ خطرہ مول لیتے ہیں کہ شیطان کے تمام ساتھی اس کو بے عزت کرنے اور ناکام بنانے کے لئے ہر قسم کی تدبیریں کرنا شروع کر دیں۔ ہر دور میں یہ دیکھا گیا ہے کہ سچے حق پرست جو ہمیشہ کم تعداد میں ہوتے ہیں، لوگوں کی سخت ترین عداوتوں کا شکار رہتے ہیں۔ اس کی وجہ یہی شیطان کی دشمنانہ کارروائیاں ہیں۔ وہ لوگوں کو سچے حق پرست آدمی کے خلاف بھڑکا دیتا ہے، وہ مختلف طریقہ سے لوگوں کے دل میں اس کے خلاف نفرت کی آگ بھرتا ہے ۔ چنانچہ وہ شیطان کا آلہ کار بن کر ایسے آدمی کو ستانا شروع کر دیتے ہیں۔

شیطان کا اصل جرم عدم اعتراف تھا۔ شیطان کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ ہر آدمی کے اندر یہی عدم اعتراف کا مزاج پیدا کر دے۔ وہ چھوٹے کو بھڑکاتا ہے کہ وہ اپنے بڑے کا لحاظ نہ کرے۔ معاملات کے دوران جب ایک شخص کے ذمہ دوسرے کا کوئی حق آتا ہے تو وہ اس کو سکھاتا ہے کہ وہ حق دار کا حق ادا نہ کرے۔ کوئی خدا کا بندہ سچائی کا پیغام لے کر اٹھتا ہے تو لوگوں کے دل میں طرح طرح کے شبہات ڈال کر انھیں آمادہ کرتا ہے کہ وہ اس کی بات نہ مانیں ۔ دو فریقوں کے درمیان نزاع ہوا اور ایک فریق اپنے حالات کے اعتبار سے کچھ دینے پر راضی ہو جائے تو شیطان فریق ثانی کے ذہن میں یہ ڈالتا ہے کہ اس کی پیش کش کو قبول نہ کرو، اور اتنا زیادہ کا مطالبہ کرو جو وہ نہ دے سکتا ہو۔ تاکہ جنگ و فساد مستقل طور پر جاری رہے۔

اس طرح شیطان کے بہکاووں سے ہر جگہ لوگوں کے درمیان دشمنیاں جاری رہتی ہیں۔ انسانوں میں دو گروہ بن جاتے ہیں اور ان میں ایسا ٹکراؤ شروع ہوتا ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1981 All issues

Printed page