جب دین مشتبہ ہو جائے
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۱، صفحہ ۳۱
کہ وہ عین دین خداوندی کی تکمیل کر رہے ہیں۔
عرب کے مشرکین نے حضرت ابراہیم کے ایک واقعہ سے غلط طور پر ذبح اولاد کی رسم نکالی۔ یہود نے حضرت سلیمان کی زندگی کے ایک پہلو کو جادو اور عملیات کا کاروبار کرنے کے حق میں استعمال کیا۔ عیسائیوں نے حضرت مسیح کی غیر شادی شدہ زندگی سے ترک نکاح کا مقدس طریقہ اخذ کر لیا۔ یہ سب سراسر گمراہی کے فعل ہیں۔ وہ بظاہر نبی کے ایک فعل سے مشابہ ہونے کے باوجود نبی کی تعلیمات کے بالکل خلاف ہیں۔ تا ہم جن لوگوں نے ان کو اختیار کیا وہ لوگوں کو یہی باور کراتے رہے کہ وہ پیغمبر کے اسوہ پر عمل کر رہے ہیں۔ اس طرح شیطان لوگوں کو ایک دینی عمل کے نام پر کسی لایعنی کام میں الجھا دیتا ہے۔ وہ دین کے معاملہ میں لوگوں کو مشتبہ کر کے ان کو دین سے دور کر دیتا ہے۔ وہ ایک بے دینی کے کام میں مشغول ہو جاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ وہ عین دینی کام کر رہے ہیں۔
یہ معاملہ صرف پچھلی قوموں کے ساتھ مخصوص نہیں۔ امت مسلمہ کے افراد بھی مختلف طریقوں سے اس بے راہی میں پڑ سکتے ہیں۔ وہ پیغمبر اسلام کی زندگی یا آپ کی تعلیمات کے کسی پہلو کی غلط تعبیر کر کے دین میں ایسی بدعت داخل کر سکتے ہیں جس پر بظاہر دین کا لیبل لگا ہوا ہو مگر اس کا دین خداوندی سے کوئی تعلق نہ ہو۔ وہ اپنی خواہشات پر چلیں اور اس کو دین کی اصطلاحوں میں بیان کریں۔ وہ دنیا پرستانہ سیاست چلائیں اور اس کو آخرت کا راستہ قرار دیں۔ وہ اپنے قومی جذبات کے تحت اٹھیں اور یہ ظاہر کریں کہ وہ عین اسلام کی خاطر ایسا کر رہے ہیں۔
ایسے لوگوں کو عام طور پر بہت جلد مقبولیت حاصل ہو جاتی ہے کیونکہ وہ خدا کے دین کو اس سطح پر اتار لاتے ہیں جہاں لوگ عملاً جی رہے ہیں۔ وہ لوگوں کی خواہش پرستی کے لئے دینی جواز فراہم کر دیتے ہیں۔ لوگ اس غلط فہمی میں رہتے ہیں کہ اپنی جگہ سے کھسکے بغیر وہ دین کو اس کی کامل صورت میں پا گئے ہیں۔ دین کو کچھ دئے بغیر انھوں نے اس کا سب کچھ حاصل کر لیا ہے۔
دین کی ایک حقیقت ہے اور اس کے کچھ خارجی مظاہر۔ مظاہر کو اگر حقیقت کی روشنی میں سمجھا جائے تو ہر چیز اپنے صحیح مقام پر جمتی ہے۔ اس کے برعکس اگر حقیقت کو مظاہر کی روشنی میں دیکھا جائے لگے تو عجیب عجیب تعبیرات ظہور میں آتی ہیں۔ اب خدا کا پیغمبر کسی کو اشتراکی لیڈر دکھائی دینے لگتا ہے۔ قرآن کسی کے لئے دنیوی معاملات کی کنجی بن جاتا ہے۔ کوئی جماعت کی نماز کو فوجی ٹریننگ سمجھ لیتا ہے۔ کسی کو پورا دین سیاست کے روپ میں نظر آتا ہے۔ اس طرح ہر آدمی دین کی الگ تصویر بنا لیتا ہے جو اس کے اپنے ذہن کے پوری طرح مطابق ہوتی ہے مگر اصل حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہوتا۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1981 All issues