آپ کا حصہ آپ کو مل کر رہے گا
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۱، صفحہ ۳۲
آپ کا حصہ آپ کو مل کر رہے گا
عبداللہ بن مسعود کا بیان ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: أَيُّهَا النَّاسُ لَيْسَ مِنْ شَيْءٍ يُقَرِّبُكُمْ إِلَى الْجَنَّةِ وَيُبَاعِدُكُمْ مِنَ النَّارِ إِلَّا وَقَدْ أَمَرْتُكُمْ بِهِ وَلَيْسَ مِنْ شَيْءٍ يُقَرِّبُكُمْ مِنَ النَّارِ وَيُبَاعِدُكُمْ مِنَ الْجَنَّةِ إِلَّا وَقَدْ نَهَيْتُكُمْ عَنْهُ وَإِنَّ الرُّوحَ الْأَمِينَ نَفَثَ فِي رُوعِي أَنَّ نَفْسًا لَنْ تَمُوتَ حَتَّى تَسْتَكْمِلَ رِزْقَهَا أَلَا فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَجْمِلُوا فِي الطَّلَبِ وَلَا يَحْمِلَنَّكُمْ اسْتِبْطَاءُ الرِّزْقِ أَنْ تَطْلُبُوهُ بِمَعَاصِي اللَّهِ فَإِنَّهُ لَا يُدْرَكُ مَا عِنْدَ اللَّهِ إِلَّا بِطَاعَتِهِ (مشكوة، باب التوكل والصبر)
اے لوگو! جنت سے قریب کرنے والی جتنی چیزیں ہیں اور دوزخ سے دور کرنے والی جتنی چیزیں ہیں ان سب کا میں تمہیں حکم دے چکا ہوں۔ اسی طرح دوزخ سے قریب کرنے والی جتنی چیزیں ہیں اور جنت سے دور کرنے والی جتنی چیزیں ہیں ان سب سے تمہیں منع کر چکا ہوں۔ اور جبریل امین نے میرے دل میں یہ خیال ڈالا ہے کہ کوئی شخص ہرگز مر نہیں سکتا جب تک وہ اپنے حصے کا رزق نہ پائے۔ تو آگاہ رہو تم لوگ خدا سے ڈرو اور تلاش رزق میں جمیل طریقوں سے کام لو اور اگر رزق آنے میں کچھ دیر لگے تو اس کی وجہ سے تم معصیت کی راہ سے اس کو حاصل کرنے کی طرف مائل نہ ہو جاؤ کیونکہ خدا کے پاس جو کچھ ہے اس کو اس کی اطاعت ہی کے ذریعہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔
صحیح زندگی چھوڑ کر غلط زندگی اختیار کرنے کا محرک اکثر حالات میں یہی ہوتا ہے کہ آدمی دنیا میں اپنے لئے زیادہ سے زیادہ حاصل کر سکے۔ اس لئے فرمایا کہ دنیا میں جو کچھ تم حاصل کرتے ہو وہ محض تمھاری اپنی کوششوں کا حاصل نہیں ہوتا بلکہ وہ دراصل تمھارا وہ حصہ ہوتا ہے جو پہلے سے تمھارے لئے مقدر ہو چکا ہے، اس لئے حصولِ معاش کی جدو جہد میں دوسرے فرائض کو نہ بھولو اور اس کے لئے اتنا بد حواس نہ ہو جاؤ کہ خدا کی مقرر کی ہوئی حدوں کو توڑنے لگو۔ یہ حقیقت ہمیشہ یاد رکھو کہ دنیا کے لئے آدمی کی بے قراری یا حرام ذریعوں سے حاصل کرنے کی کوشش اس کو مزید کچھ نہیں دے سکتی۔ وہ صرف اس کی بدبختی میں اضافہ کرے گی۔ حصول معاش کی جدوجہد میں ہمیشہ یہ یاد رکھنا چاہئے کہ جو کچھ کسی کو ملتا ہے وہ خدا کی طرف سے ملتا ہے۔ ہماری کوششیں ہمارے لئے استحقاق پیدا کرتی ہیں نہ کہ وہی بذات خود نتیجہ پیدا کرنے والی ہیں۔ اس معاملہ کو تعلیمی امتحان کی مثال سے سمجھا جا سکتا ہے۔ کسی شخص کی امتحان میں داخلہ کی درخواست کو قبول کرنا یہ معنی رکھتا ہے کہ امتحان ہال میں اس کو ایک نشست دی جائے گی۔ اور اسی کے ساتھ اس کے لئے وہ تمام سامان فراہم کئے جائیں گے جو امتحان دینے کے لئے ضروری ہیں۔ اس مثال سے موجودہ دنیا میں زندگی کی حقیقت کو سمجھا جا سکتا ہے، یہ دنیا دار الامتحان ہے اور ہمارا یہاں پیدا ہونا گویا اپنے آپ کو امتحان میں شامل کرنا ہے۔ چنے بیزی کی کا نام ہت ہے جو آگے اس کے بعد پھراور پیچھے ہٹا، پھر اپنے لوگوں کی طرف اکڑتا ہوا گیا
‹ Previous page Next page › Contents of April 1981 All issues