خلق قرآن
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۱، صفحہ ۳۵
کرنے کے بھی ہوتے ہیں۔ جیسا کہ قرآن میں ہے جعل الظلمات والنور (خدا نے بتائی تاریکی اور روشنی) اس سے ثابت ہوا کہ قرآن "مجعول" ہے، بالفاظ دیگر وہ مخلوق ہے جس طرح روشنی اور تاریکی مخلوق ہیں۔ اس دلیل کی کمزوری اتنی چھپی ہوئی نہ تھی کہ اس کو وہ لوگ سمجھ نہ سکیں جو اپنے وقت میں دنیا کی سب سے بڑی حکومت چلا رہے تھے۔ اصل یہ ہے کہ تین عباسی خلفاء مامون، معتصم اور واثق ــــ نے امام حنبل اور دوسرے علماء پر جو مظالم کئے اس کی وجہ تمام تر سیاسی تھی۔ اس طرح وہ اپنے مفروضہ سیاسی حریفوں کو مذہب کے نام پر سزائیں دے رہے تھے ۔
حدیث کی جمع و تدوین کے کام کا آغاز حضرت عمر بن عبدالعزیز (۱۰۱ ۔ ۶۲ھ) نے اپنے زمانہ خلافت میں کیا۔ مگر آپ کی خلافت کی مدت صرف ڈھائی سال رہی اس لئے آپ اس کام کی تکمیل نہ فرما سکے اور اس دنیا سے چلے گئے۔ آپ کے بعد خلافت کا ادارہ دنیا دار بادشاہوں کے قبضہ میں آگیا۔
دوسری صدی ہجری میں محدثین نے حدیث کی تدوین کا کام شروع کیا تو انھوں نے انتہائی دیانت داری کے ساتھ ہر قسم کی روایتیں جمع کرنی شروع کیں اور اس کا مطلق لحاظ نہ کیا کہ کون سی روایت کس کے موافق پڑتی ہے اور کس کے خلاف ۔ قدرتی طور پر وقت کے مسلم سلاطین کو یہ بات ناگوار تھی۔ کیونکہ حدیث کے دفتر میں بہت سی ایسی روایتیں بھی محفوظ ہو رہی تھیں جن کی زندان کی عیش پرستی اور ان کی ظالمانہ سیاست پر پڑتی تھی۔ اس بنا پر حدیث کو وہ اپنے خلاف عدم اعتماد کا ووٹ سمجھنے لگے۔ انہوں نے چاہا کہ حدیث کی جمع و تدوین کا کام ان کی سرپرستی میں ہو تاکہ اس کو اپنی مصلحتوں کے مطابق ڈھالا جاسکے ۔ مگر محدثین نے اس مقدس کام میں کسی بھی قسم کے شاہی اثر و نفوذ کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔
یہ تھی اصل بات جس کی وجہ سے وقت کے حکمراں محدثین کرام سے خوش نہ تھے۔ مگر محدثین کو اس نام پر سزا دینا ممکن نہ تھا کہ وہ حدیث کی جمع و تدوین کے کام میں شاہی مصلحتوں کی رعایت نہیں کر رہے ہیں۔ چنانچہ وہ کسی ایسے سبب کی تلاش میں تھے جس کو بہانہ بنا کر محدثین کو ان کی باغیانہ روش، کی سزا دی جاسکے۔ خلق قرآن کے مسئلہ نے یہ موقع دے دیا۔ معتزلی علماء نے جب یہ عقیدہ نکالا کہ قرآن مخلوق ہے تو اکثر محدثین نے آگے بڑھ کر اس کو غلط قرار دے دیا۔ وقت کے خلیفہ نے فوراً اس موقع کو استعمال کیا۔ اس نے اس عقیدہ کو اسلامی حکومت کا سرکاری عقیدہ قرار دے کر محدثین پر اس سے منحرف ہونے کا الزام عاید کر دیا۔ اس طرح ان کو اعتقادی مجرم ٹھہرا کر انہیں کوڑے مارے جانے لگے۔
مسئلہ خلق قرآن پر محدثین کو دی جانے والی سزا در اصل ایک سیاسی سزا تھی جو دین کے نام پر دی گئی۔ اس معاملہ کو موجودہ زمانہ کے ان مسلم حکمرانوں کی مثال سے بآسانی سمجھا جا سکتا ہے جو اپنے سیاسی مخالفوں کو دین کے نام پر کوڑے اور قتل کی سزائیں دے رہے ہیں۔ سیاسی جرم کی دینی سزا ہر زمانہ میں رائج رہی ہے۔ البتہ حالات کے اعتبار سے ہر زمانہ میں اس کے عنوان مختلف ہو جاتے ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1981 All issues