خلق قرآن
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۱، صفحہ ۴۳
تاہم بہت سے دوسرے محدثین خصوصاً امام احمد بن حنبل نے اس معاملہ میں بہت شدید رویہ اختیار کیا معتزلہ کہتے تھے کہ قرآن مخلوق ہے۔ یعنی خدا کی ذات کی طرح قدیم نہیں ہے۔ بلکہ ایک خاص وقت میں خدا نے اس کو خلق کیا ہے جس طرح سورج چاند کو ایک خاص وقت میں خلق کیا ہے۔ امام حنبل اور دوسرے علماء قرآن کو غیر مخلوق (اللہ کی ذات کی طرح قدیم) کہتے تھے۔ ان کے پیروؤں نے ان کے بعد مزید غلو کیا۔ چنانچہ حنابلہ کا یہ مسلک نقل کیا گیا ہے کہ وہ قرآن مجید کی روشنائی اور اس کے اوراق کو بھی قدیم مانتے تھے۔ اس مسلک کے بعض لوگوں نے یہاں تک کہا کہ جس قلم سے قرآن مجید لکھا گیا وہ بھی قدیم ہے۔ بعد کے دور میں جب حکمران طبقہ حنابلہ پر مہربان ہو گیا اور حکومت پر ان کا اثر قائم ہو گیا تو امام بخاری کو امام حنبل سے مختلف مسلک رکھنے کی بنا پر قید و بند کی تکلیفیں بھی برداشت کرنی پڑیں۔
مسئلہ کی فنی نوعیت سے قطع نظر، امام حنبل وغیرہ نے جب اس معاملہ میں معتزلہ کے مسلک سے علیحدہ مسلک پر اصرار کیا تو خلیفہ مامون الرشید (۲۱۸ - ۷۲۰ھ) کو اپنا ایک سیاسی مقصد حاصل کرنے کا قیمتی موقع ہاتھ آگیا۔ کیونکہ وہ محدثین کو حکومت سے الگ راستہ بنانے پر سزا دینا چاہتا تھا۔ چنانچہ وہ محدثین کی رائے کے برعکس معتزلہ کی رائے کا پرجوش مبلغ بن گیا۔ ۲۱۸ ھ میں مامون الرشید نے مختلف شہروں میں اپنے حاکموں کے نام فرمان جاری کیا کہ علماء و محدثین کو جمع کر کے ان سے خلق قرآن کے عقیدہ کا اقرار کرایا جائے اور جو اقرار نہ کرے اس کو سخت سزا دی جائے۔
خلیفہ مامون ابھی اپنے مشن کو پورا نہیں کر پایا تھا کہ اس کا انتقال ہو گیا۔ اس نے انتقال کے وقت اپنے جانشین کو وصیت کی کہ وہ محدثین کے سامنے خلق قرآن کا مسئلہ پیش کرے اور ان میں سے جو لوگ اس کی تصدیق نہ کریں ان کو سخت سزا دے۔ مامون کے بعد معتصم باللہ خلیفہ ہوا۔ اس نے اپنے پیش رو کی وصیت پر پورا پورا عمل کیا۔ مختلف علماء کو اس عقیدہ سے انکار کی بنا پر سخت سزائیں دی گئیں۔ ان سزاؤں کا سب سے زیادہ نشانہ امام احمد بن حنبل (الم - ۲۴۱ھ) بنے جو اس وقت اس رائے کی مخالفت کرنے والوں کی علامت بن گئے تھے۔ امام صاحب کو رقہ سے بغداد لایا گیا۔ پہلے خلق قرآن کے مبلغ علماء سے مناظرہ ہوا۔ جب مناظرہ کے ذریعہ وہ ان کو قائل نہ کر سکے تو ڈراتے دھمکانے کا سلسلہ شروع ہوا۔ اس کے بعد کوڑے مارے جانے لگے اور بھاری بیڑیاں پہنا دی گئیں ۔ محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ میں نے سنا کہ امام احمد بن حنبل کو اتنے کوڑے مارے گئے کہ اگر اتنے کوڑے ہاتھی کو مارے جاتے تو ہاتھی بھی چیخ اٹھتا۔
خلق قرآن کا مسئلہ بظاہر اتنا بے معنی ہے کہ بہت سے لوگوں کے لئے یہ سمجھنا بھی مشکل ہے کہ معتزلہ نے ایسا عقیدہ کیوں گھڑا اور وقت کے حکمرانوں نے اس پر یقین کیسے کر لیا۔ مگر اس وقت کے معتزلی علماء نے اس بے معنی عقیدہ کے حق میں بھی قرآن سے دلیل فراہم کر لی تھی۔ قاضی احمد بن دواد معتزلی نے اس کی دلیل یہ پیش کی کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : انا جعلناه قرآناً عربياً ہم نے بنایا ہے اس کو عربی قرآن اس نے کہا کہ جعل کے معنی خلق یعنی پیدا
‹ Previous page Next page › Contents of April 1981 All issues