معیار کی تبدیلی
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۱، صفحہ ۳۷
معیار کی تبدیلی
ہجرت کے دوسرے سال بدر کے مقام پر مسلمانوں میں اور قریش میں جنگ ہوئی۔ قریش کی سرداری ابو جہل کو حاصل تھی ۔ جنگ سے ایک دن پہلے اس نے خدا سے اپنی فتح کی دعا کی تو اس کی زبان سے یہ الفاظ نکلے : خدایا ، دونوں فریقوں میں سے جو سب سے زیادہ رشتہ رحم کا کاٹنے والا ہو تو کل کے دن اس کو ہلاک کر دے (اللہم اقطعنا للہ رحم فاحينہ الغداة)
ابو جہل کو خدا سے یہ کہنا تھا کہ وہ قریش کو مسلمانوں کے اوپر فتح دے۔ اس کی یہ بات اسی وقت باوزن ہو سکتی تھی جب کہ وہ یہ بھی دکھا سکے کہ مسلمانوں کے مقابلہ میں اس کا گروہ حق پر ہے۔ اس مقصد کے لئے اس نے قطع رحم کو فیصلہ کی بنیاد بنایا ۔ کیونکہ اسلام کی دعوت نے قریش کے خاندانوں میں باپ کو بیٹے سے اور بھائی کو بھائی سے جدا کر دیا تھا۔ اس معیار پر جانچنے کی صورت میں یہ ثابت ہوتا تھا کہ اس کا اپنا گروہ حق پر ہے اور مسلمانوں کا گروہ باطل پر۔ روس کے سابق وزیر اعظم نیکیتا خرد شیچوف نے بھی اسی طریقہ کو اختیار کرتے ہوئے خدا کے وجود سے انکار کر دیا تھا۔ انھوں نے یہ معیار قائم کیا کہ خدا اگر ہے تو اس کو چاند پر سے نظر آنا چاہئے۔ جب روس کے راکٹ نے اپنے چاند کے سفر کی رپورٹ میں خدا کا کوئی نشان نہیں بتایا تو خروشیچوف نے اعلان کر دیا : خدا کا کوئی وجود نہیں ، کیونکہ ہمارا راکٹ چاند تک گیا مگر اس کو کہیں خدا نظر نہیں آیا۔
یہی غلطی مختلف شکلوں میں خود اسلام میں پیدا ہوسکتی ہے۔ کون اسلام پر ہے اور کون اسلام پر نہیں ہے۔ اس کا ایک خدائی معیار ہے۔ لیکن اگر آپ اس معیار کو بدل دیں تو آپ کے لئے سارا معاملہ کچھ سے کچھ ہو جائے گا۔ آپ اپنے ذاتی معیار کی بنا پر دین کو بے دینی سمجھ لیں گے اور بے دینی کو دین۔ اگر آپ نے یہ سمجھ لیا ہو کہ دعوت دین کی بنیاد اکابر کے ملفوظات ہیں تو آپ کو وہ دعوت دینی دعوت نظر نہ آئے گی جس کی بنیاد قرآن و سنت پر رکھی گئی ہو۔ اگر آپ یہ معیار قائم کر لیں کہ دین وہ ہے جو بزرگوں سے عقیدت پیدا کرے تو آپ کو وہ دین معلوم نہ ہوگا جو خدا سے عقیدت پیدا کرنے والا ہو۔ اگر آپ کا ذہن یہ ہو کہ کامل دین وہ ہے جو سیاسی انقلاب کا علم بردار ہو تو آپ کو وہ دین ناقص دین دکھائی دے گا جو فرد کے اندر نفسیاتی انقلاب پر زور دیتا ہو۔ اگر آپ کا خیال یہ ہو کہ جہاد اور عزیمت کے مقام پر وہ ہے جو حکمرانوں کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے لئے اکھیڑ پچھاڑ کی مہم چلائے تو آپ کو وہ شخص جہاد اور عزیمت کے مقام سے گرا ہوا نظر آئے گا جو یہ کہے کہ حکمرانوں سے تصادم نہ کرتے ہوئے غیر سیاسی دائرہ میں کام کرو۔ اگر آپ یہ معیار بنا لیں کہ جو شخص فرعی مسائل اور فنی موشگافیوں میں کمال رکھتا ہو وہی ماہر دینیات ہے تو آپ کو وہ شخص علم دینیات کا ماہر نظر نہ آئے گا جو خوف خدا اور فکر آخرت کی باریکیوں کو بیان کرتا ہو۔ اگر آپ نے یہ سمجھ لیا ہو کہ احتجاج اور حقوق طلبی کی مہم ایثار ملت کی مہم ہے تو آپ ملت کے اندر خود تعمیری کی تحریک کو احیائے ملت کی تحریک سمجھنے سے قاصر رہیں گے۔ ارسل : اپریل 1981
‹ Previous page Next page › Contents of April 1981 All issues