ایک سچی بات
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۱، صفحہ ۳۸
ایک سچی بات
شیخ حمید الدین ابو حاکم قریشی (۵۳۷- ۶۵۰ھ) ایک ایسے خاندان میں پیدا ہوئے جو کیچ اور مکران کے علاقہ پر حکومت کر رہا تھا۔ اپنے والد سلطان بہار الدین کے انتقال کے بعد وہ تخت سلطنت پر بیٹھے اور ۲۱ سال تک شان و شوکت کے ساتھ حکومت کی۔
"ذکر کرام" میں ان کے واقعات کے ذیل میں لکھا ہے کہ شیخ حمید الدین کے ساتھ ایک چھوٹا سا واقعہ پیش آیا جس نے ان کی زندگی کا رخ بدل دیا اور "سلطان" کے بجائے ان کو "شیخ" بنا دیا۔
شیخ حمید الدین اپنی حکومت کے زمانہ میں دوپہر کو اپنے ایک باغ میں قیلولہ کیا کرتے تھے۔ اس باغ میں ان کا ایک محل تھا۔ اس محل کی نگرانی نوبیت نامی ایک خادمہ کے سپرد تھی۔ اس خادمہ کے ذمہ یہ کام تھا کہ ہر روز وقت پر بستر بچھا دے تاکہ شیخ حمید الدین آکر اس پر آرام کر سکیں۔ بیان کیا جاتا ہے کہ ایک روز شیخ کے آنے سے پہلے خادمہ نے بستر بچھایا تو اس کو بستر بہت اچھا لگا۔ وہ اس پر کچھ دیر کے لئے لیٹ گئی۔ ابھی وہ بستر سے اٹھی نہیں تھی کہ اس کو نیند آگئی۔ شیخ حمید الدین جب معمول کے مطابق آرام کرنے کے لئے محل پہنچے تو دیکھا کہ خادمہ نوبیت بستر پر پڑی سورہی ہے۔ سلطان کے بستر پر خادمہ کو سویا ہوا دیکھ کر انہیں غصہ آگیا۔ انھوں نے حکم دیا کہ اس گستاخی پر خادمہ کو سو کوڑوں کی سزا دی جائے۔
حکم کی فوراً تعمیل ہوئی اور خادمہ کو کوڑے مارے جانے لگے۔ مگر شیخ حمید الدین کو یہ دیکھ کر تعجب ہوا کہ خادمہ آہ و واویلا نہیں کر رہی ہے، بلکہ ہر کوڑے پر ہنس پڑتی ہے۔ انھوں نے سزا کوروک کر خادمہ کو بلایا اور اس سے خلاف معمول ہنسنے کی وجہ پوچھی۔ خادمہ نے نہایت سنجیدگی کے ساتھ جواب دیا:
مجھے خیال آیا کہ جب اس نرم بستر پر ایک بے اختیارانہ نیند کی یہ سزا ہے تو ان لوگوں کا انجام کیا ہوگا جو روزانہ اس نرم بستر پر آرام کرتے ہیں۔
خادمہ کے اس جواب کا شیخ حمید الدین پر اتنا اثر ہوا کہ ان کی زندگی بالکل بدل گئی۔ وہ دنیا اور اس کی لذتوں سے بے رغبت ہو گئے۔ یہاں تک کہ درویشی کی زندگی اختیار کر لی۔ سلطنت چھوڑ کر شیخ حمید الدین لاہور آئے۔ یہاں حضرت سید احمد توختہ (جو ان کے نانا بھی ہوتے تھے) کی خدمت میں حاضر ہو کر ان کے ہاتھ پر طریقہ شطاریہ میں بیعت کی اور ریاضتوں اور مجاہدوں کے بعد ان کی خلافت حاصل کی۔ شیخ حمید الدین نے ۱۶۰ سال کی عمر پائی۔ آخر عمر میں وہ اچ اور سکھر کے درمیانی علاقہ میں تبلیغ وارشاد کا کام کرتے رہے۔ اس علاقہ میں بہت سے لوگ ان کے ہاتھ پر ایمان لائے (تذکرہ صوفیار پنجاب از اعجاز الحق قدوسی)
آدمی کی فطرت زندہ ہو تو ایک جملہ اس کو تڑپانے کے لئے کافی ہے۔ اور اگر فطرت مردہ ہو جائے تو ہزاروں تقریریں بھی اس کو حرکت میں لانے کے لئے ناکام ثابت ہوتی ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1981 All issues