برائی کو روکو
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۱، صفحہ ۴۲
برائی کو روکو
ما من قوم تعمل فیہم بالمعاصی ثم یقدرون کسی بھی قوم میں اگر گناہ کئے جائیں اور قدرت رکھنے کے علی ان یغیروا فلم یغیروا الا یوشک ان یعمہم با وجود لوگ گناہ گاروں کو نہ روکیں تو قریب ہے کہ خدا ان اللہ تعالی بعقاب (ابوداؤد ، ترمذی) سب کو عذاب میں مبتلا کر دے۔
والذی نفسی بیدہ لتامرن بالمعروف ولتنہون اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے ضرور ہے عن المنکر او لیوشکن اللہ ان یبعث علیکم عقاباً کہ تم لوگ نیکی کا حکم دو اور برائی سے روکو۔ ورنہ جلد ہی خدا تم منہ ثم تدعونه فلا يستجيب لكم (ترمذی) سب پر عذاب بھیج دے گا۔ پھر تم خدا کو پکارو گے مگر وہ تم کو کوئی جواب نہ دے گا۔
حدیث میں اس قسم کی جو ہدایتیں نقل ہوئی ہیں وہ اصلاً سماجی ہدایتیں ہیں نہ کہ سیاسی ہدایتیں۔ یعنی ان کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کسی حکمران کو ”ظالم قرار دے کر اس کے خلاف شور وغل کرو اور انصاف قائم کرنے کے نام پر اس کو اقتدار سے بے دخل کرنے کی مہم چلاؤ۔ اس قسم کی اسلامی سیاست محض موجودہ زمانہ کی سیاسی پارٹیوں کی نقل ہے۔ اس کا مذکورہ اسلامی ہدایات سے کوئی تعلق نہیں۔ ان ہدایات کا مخاطب معاشرہ کا ہر فرد ہے نہ کہ کوئی سیاسی نظام۔
کسی معاشرہ میں ہمیشہ تھوڑے آدمی ہوتے ہیں جو شرارت کرتے ہیں۔ اب اگر معاشرہ ایک زندہ معاشرہ ہو تو جب لوگ دیکھتے ہیں کہ ایک پڑوسی دوسرے پڑوسی کو ستار ہاہے۔ ایک رشتہ دار دوسرے رشتہ دار کو تکلیف دے رہا ہے۔ ایک صاحب معاملہ دوسرے صاحب معاملہ کے حقوق ادا نہیں کرتا تو ایسے معاشرہ میں مظلوم کو خود اپنے آس پاس ایسے لوگ مل جاتے ہیں جو اس کی حمایت میں کھڑے ہو جائیں۔ وہ ظالم کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ اپنی شرارتوں سے باز آئے۔ ایسے سماج میں برائیاں پیدا ہوتی ہیں مگر وہ وہیں کی وہیں دبا دی جاتی ہیں۔ اس کے برعکس جب لوگوں کا حال یہ ہو جائے کہ وہ اپنے سامنے ظلم وزیا دتی کے واقعات دیکھیں مگر غیر جانب دار بن کر رہ جائیں تو دھیرے دھیرے ان خرابیوں سے ایسے فتنے ابھرتے ہیں جو پورے سماج کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں ۔ ماحول کا دباؤ سب سے بڑا دباؤ ہے۔ حتیٰ کہ حکومت اور عدالت سے بھی زیادہ ۔ اگر آس پاس کا ماحول ظالم کو روکے اور مظلوم کی حمایت میں کھڑا ہو جائے تو کبھی برائیاں پھیل نہیں سکتیں ۔ اس کے برعکس جب ماحول برائی کو دیکھنے کے باوجو د خاموش رہے تو بیک وقت دو خرابیاں پیدا ہوتی ہیں ۔ ایک طرف ظالم کی حوصلہ افزائی اور دوسری طرف مظلوم کے اندر انتقام اور بے اعتمادی۔ یہ دونوں چیزیں وقت کے ساتھ بڑھتی رہتی ہیں۔ یہاں تک کہ وہ وقت آتا ہے کہ برائیاں بڑھ کر خود ان لوگوں کو جھلس دیتی ہیں جو اپنے کو مامون سمجھ کر ان کے معاملہ میں غیر جانب دار بن گئے تھے۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1981 All issues