جب جنت والے جنت میں جانے سے روک دئے جائیں گے
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۱، صفحہ ۴۱
کی مورتیں بنائیں ۔ اس کے بعد جب دوسری نسل آئی تو اس کو شیطان نے مزید سکھایا کہ ان کے آبا و اجداد ان مورتوں کے پاس جو عبادت کرتے تھے وہ خود انھیں بزرگوں کی عبادت ہوتی تھی جن کی یہ مورتیں ہیں اور یہی بزرگ ہیں جو بارش برساتے ہیں اور سارے کام بناتے ہیں۔ اس طرح ان میں باقاعدہ بت ستی شروع ہو گئی (ابن کثیر تفسیر سورہ نوح) خدا کے قانون میں کسی کے لئے رعایت نہیں سورہ مائدہ میں بنی اسرائیل کے تذکرہ کے تحت ارشاد ہوا ہے کہ ان میں سے جو لوگ اللہ کے اتارے ہوئے حکم کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہ کافر ہیں، وہ ظالم ہیں، وہ فاسق ہیں۔ حذیفہ رضی اللہ عنہ سے کسی نے کہا کہ سورہ مائدہ کی یہ یہ تینوں آیتیں بنی اسرائیل کے حق میں اتری ہیں، وہ ہمارے اوپر چسپاں نہیں ہوتیں۔ یعنی یہودیوں میں سے جو شخص خدا کے اتارے ہوئے حکم سے انحراف کرے وہ کافر اور ظالم اور فاسق ہے نہ کہ ہم ۔ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بنی اسرائیل تمھارے کتنے اچھے بھائی ہیں کہ کڑوا کڑوا سب ان کے لئے ہے اور میٹھا میٹھا سب تمھارے لئے ۔ ہرگز نہیں خدا کی قسم تم انھیں کے طریقہ پر قدم بقدم چلو گے (نعم الاخوة لکم بنو اسائیل ان كانت لهم كل مرة ولکم كل حلوة كلا والله لتسلكن طريقهم قد يقم قدا للشراٹ)
جب جنت والے جنت میں جانے سے روک دئے جائیں گے
امام بخاری نے اپنی کتاب الادب المفرد (باب المعانقة) میں نقل کیا ہے۔ عبد اللہ بن محمد بن عقیل کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبد اللہ کو یہ کہتے ہوئے سنا : مجھے ایک صحابی کے بارے میں یہ بات پہنچی کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث سنی ہے۔ میں نے ایک اونٹ خریدا اور اس پر کجاوہ باندھا اور اس کے بعد اونٹ پر سوار ہو کر روانہ ہوا۔ میں ایک مہینہ تک سفر کرتا رہا۔ اس کے بعد میں شام پہنچا اور وہاں عبد اللہ بن انیس کے گھر پر حاضر ہوا۔ میں نے دربان سے کہا : صاحب خانہ سے کہو کہ جابر پر دروازہ پر ہے۔ انھوں نے کہا کیا عبد اللہ کے لڑکے جابر۔ میں نے کہا ہاں۔ پھر عبد اللہ بن انیس نکلے اور مجھ کو گلے سے لگایا۔ میں نے کہا: مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ سنا ہے۔ مجھے ڈر ہوا کہ میں مرجاؤں قبل اس کے کہ میں اس کو سنوں ۔ انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے : قیامت کے دن لوگ اس حال میں جمع ہوں گے کہ ننگے ، غیر مختون اور بے سرو سامان ہوں گے ۔ اللہ ان کو آواز دے گا جس کو دور والے بھی اسی طرح سنیں گے جس طرح قریب والے سنیں گے۔ اللہ فرمائے گا : میں بادشاہ ہوں، میں انصاف کرنے والا ہوں ۔ کوئی جنت والا جنت میں داخل نہیں ہو سکتا اگر اس نے کسی دوزخ والے پر ظلم کیا ہو جس کا وہ بدلہ چاہتا ہو۔ اور کوئی دوزخ والا دوزخ میں داخل نہیں ہو سکتا اگر اس نے کسی دوزخ والے پر ظلم کیا ہو اور وہ اس کا بدلہ چاہتا ہو۔ میں نے پوچھا ایسا کیوں کر ہو گا جب کہ ہم کو اللہ ننگے اور بے سرو سامان اٹھائے گا۔ جواب دیا : بالحسنات والسئیات ۔ یعنی بھلائیوں اور برائیوں کے ذریعہ بدلہ ادا کیا جائے گا۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1981 All issues