علم کے بغیر عمل کبھی بگاڑ کا باعث ہوتا ہے
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۱، صفحہ ۴۴
مگر اس نے جو کچھ کہا وہ ہو کر رہا ( (فلم يقل شيئاً الاكان ) پھر اللہ نے ہمارے دلوں میں اس کی تصدیق ڈالی۔ ہم اس کے پیرو بن گئے۔ اللہ نے اپنے پیغمبر کے ذریعہ ہم سے وعدہ کیا ہے کہ ہم میں سے جو مارا جائے وہ جنت میں جائے گا اور جو باقی رہے گا اس کو مخالفین کے مقابلہ میں اللہ کی مدد حاصل ہوگی۔
یزدگرد نے خفا ہو کر اپنے آدمیوں کو حکم دیا کہ ایک ٹوکرا مٹی لاؤ اور ان میں جو سب سے زیادہ شریف ہو اس کے سر پر رکھ کر ان کو بھیج دو یہاں تک کہ وہ مدائن کی سرزمین سے باہر نکل جائیں۔ انہوں نے یعتی عاصم بن عمر و کے سر پر رکھ دی۔ وہ اس کو لے کر ایرانی دربار سے نکلے اور اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر اپنے سردار سعد بن ابی وقاص تک پہنچ گئے۔ سعد بن وقاص ی اللہ عنہ کو معلوم ہوا تو انھوں نے کہا:
البشر و انقد واللہ اعطانا اللہ مقالید۔ مللہم خوش ہو جاؤ۔ خدا کی قسم اللہ نے ان کے ملک کی (نقائلوا باذن اللہ اخذھم بلادھم) ) البدایہ والنہایہ جلد ۶ صفحہ ۴۱ کنجیاں ہم کو دے دیں۔ حق کی مخالفت کرنے والوں کے دل میں مرعوبیت ڈال دی جاتی ہے جنگ یرموک کے زمانہ کا واقعہ ہے۔ جرجہ نام کا ایرانی سردار اپنے لشکر سے باہر آیا اور خالد بن ولید ی اللہ عنہ سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی۔ خالد بن ولید بھی نکلے اور جرجہ کے اتنے قریب پہنچ گئے کہ دونوں کے گھوڑوں کی گردنیں مل گئیں۔ جرجہ نے کہا اے خالد! مجھے بتاؤ اور بالکل سچ بولو۔ کیونکہ آزاد آدمی جھوٹ نہیں بولتا۔ کیا اللہ نے تمہارے پیغمبر پر آسمان سے کوئی تلوار اتاری ہے اور وہ تلوار انھوں نے تم کو دے دی ہے۔ اب تم جس کے اوپر بھی حملہ کرتے ہو اس کو شکست دے دیتے ہو۔ خالد رض نے کہا نہیں۔ جرجہ نے کہا پھر تم کو سیف اللہ کیوں کہا جاتا ہے۔ خالد رض نے کہا: اللہ نے ہمارے درمیان اپنا پیغمبر بھیجا۔ ہم میں سے کچھ لوگوں نے اس کو مانا، کچھ نے جھٹلایا۔ میں جھٹلانے والوں میں تھا۔ پھر اللہ نے ہمارے دلوں اور پیشانیوں کو اپنی گرفت میں لے لیا ہم کو ہدایت دی اور ہم نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کر لی:
فقال لى انت سيف من سيوف الله سلــہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری بابت فرمایا کہ تم اللہ اللہ على المشـركين ودعالی بالنصر کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہو جس کو اللہ نے مشرکین کے فسمیت سیف اللہ یدك (البدایہ والنہایہ) اوپر نکالا ہے اور آپ نے میرے لئے نصرت کی دعا فرمائی۔ اس وقت سے میرا نام سیف اللہ پڑ گیا ۔
بندوں کی مدد کرنے والا کبھی خدا کی مدد سے محروم نہیں ہوتا ۶۱۰ کی ایک شب کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غار حرا میں تھے۔ خدا کا فرشتہ آیا اور کہا کہ پڑھ“۔ آپ نے جواب دیا ما انا بقاری (میں پڑھا نہیں ہوں) آپ فرماتے ہیں کہ فرشتہ نے مجھ کو پکڑا اور دبایا۔ یہاں تک کہ اس کا دباؤ میری طاقت کی انتہا کو پہنچ گیا۔ پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور کہا ”پڑھ‘‘ میں نے پھر کہا کہ میں پڑھا نہیں ہوں، اس نے مجھے پکڑا اور دوبارہ اس طرح دیو چالہ اس کا دبو چنا میری طاقت کی انتہا کو پہنچ گیا۔ پھر اس نے
‹ Previous page Next page › Contents of April 1981 All issues