علم کے بغیر عمل کبھی بگاڑ کا باعث ہوتا ہے
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۱، صفحہ ۴۵
مجھے چھوڑ دیا اور کہا کہ پڑھ“ میں نے کہا کہ میں پڑھا نہیں ہوں ۔ اس نے تیسری بار یہ عمل کیا اور کہا: سیا پرور دگار کے نام سے جو ہمہ گیر محبت اور اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ اِقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے انسان کو پیدا کیا جمے ہوئے خون سے ۔ پڑھ اور تیرا رب بڑا کریم ہے ۔ یہ قرآن کی پہلی آیت تھی جو آپ پر اتری۔ اس کے بعد آپ اپنی بیوی خدیجہ بنت خویلد کے پاس مکہ آئے ۔ اس وقت آپ کا دل کانپ رہا تھا۔ آپ نے کہا زملونی ( مجھے کمبل اڑھا ؤ ، مجھے کمبل اڑھا ؤ گھر والوں نے آپ کو اڑھا کر لٹا دیا۔ جب آپ کی دہشت کم ہوئی تو آپ نے اپنی سن رسیدہ بیوی خدیجہ سے پوری کیفیت بیان کی اور کہا کہ یہ واقعہ اتنا سخت تھا کہ مجھے اپنی جان کا خطرہ پیدا ہو گیا۔ خدیجہ نے کہا : كلا والله ما يخزيك الله ابدا - انك لتصل الرحم وتحمل الكل وتكسب المعدوم وتقري الضيف وتعين على نوائب الحق ہرگز نہیں۔ خدا کی قسم اللہ آپ کو بھی رسوا نہ کرے گا۔ آپ رشتہ داروں کے حقوق ادا کرتے ہیں کمزوروں کا بوجھ اٹھاتے ہیں۔ بے سہارا لوگوں کو کمانے کے قابل بناتے ہیں۔ مہمان نوازی کرتے ہیں اور مصیبت کے وقت لوگوں کی مدد کرتے ہیں ایمان آدمی کے اندر فراست پیدا کرتا ہے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مکہ سے مدینہ کے لئے ہجرت کی تو ان کے ساتھ عیاش بن ابی ربیعہ بھی تھے۔ یہ لوگ مدینہ پہنچ کر بنی عمرو بن عوف کے یوہاں ٹھہرے۔ ابو جہل بن ہشام اور حارث بن ہشام اس کے بعد عیاش کی کھوج میں نکلے۔ وہ دونوں ان کے قریبی رشتہ دار تھے۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابھی مکہ میں تھے ۔ وہ دونوں مدینہ پہنچے اور عیاش سے ملے اور ان سے باتیں کیں۔ انہوں نے عیاش سے کہا: تمھاری ماں نے قسم کھائی ہے کہ اس کے سر کو کنگھی نہ چھوئے گی اور نہ وہ دھوپ سے سایہ میں آئے گی جب تک تم کو دیکھ نہ لے‘۔ یہ باتیں سن کر عیاش کو اپنی ماں پر رحم آگیا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: یہ لوگ تم کو تمھارے دین سے پھیر دینا چاہتے ہیں اس لئے تم ان سے بچ کر رہو:
فواللہ لو قد آذی امک القمل لا متشطت ولو قد اشتد عليها حر مكة لا استظلت (البدایہ والنہایہ جلد ۳)
خدا کی قسم جب تمھاری ماں کو جوں کاٹے گی تو ضرور وہ کنگھی کرے گی اور جب اس کو مکہ کی گرمی ستائے گی تو ضرور وہ سایہ میں لے جائے گی۔
عیاش نے کہا میں چاہتا ہوں کہ ماں کو اس کی قسم سے بری کر دوں اور ہاں میرا مال ہے اس کو کبھی لے لوں پھر واپس آجاوں گا۔ چنانچہ وہ مکہ کے لئے روانہ ہو گئے ۔ وہاں ان کے رشتہ داروں نے ان کو رسی میں باندھ دیا اور طرح طرح سے تکلیف دینا شروع کیا۔ یہاں تک کہ وہ اسلام کو چھوڑ کر اپنے آبائی دین میں واپس چلے گئے۔ خدا کی رحمت وہی پاتا ہے جو خود بھی رحمت کرے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو انسانوں پر رحم نہ کرے، اللہ بھی اس پر رحم نہیں کرتا (من لا یرحم الناس لا یرحمه اللہ) پے | اُمیدواروں نے اپنے کاغذات نامزدگی Scanned with CamScanner
‹ Previous page Next page › Contents of April 1981 All issues