خدا سے تعلق
الرسالہ، مئی ۱۹۸۱، صفحہ ۴
خدا سے تعلق
بشیر بدر ایک شاعر تھے۔ بھوپال کی ایک مجلس میں انھوں نے اپنی غزل سنائی۔ اس کا ایک شعر یہ تھا: گفتگو ان سے روز ہوتی ہے مدتوں سامنا نہیں ہوتا اس مجلس میں ایک چھوٹا بچہ بھی تھا۔ اس نے یہ شعر سن کر کہا: ”بشیر صاحب کیا ٹیلی فونی پر گفتگو ہوتی ہے، “بشیر بدر نے بچہ کا یہ تبصرہ سنا تو بولے: میاں صاحب زادے، تم نے تو میرے شعر کی کمر توڑ دی۔
بچہ کے گھر پر ٹیلی فون تھا وہ روزانہ دیکھتا تھا کہ اس کے باپ بھائی کسی شخص کی غیر موجودگی میں اس سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے رہتے ہیں۔ ایک غیر موجود انسان سے ٹیلی فون پر گفتگو اس کے لئے ایک جانی پہچانی چیز تھی۔ مگر وہ ابھی عمر کے اس مرحلہ میں نہیں پہنچا تھا کہ یاد اور تصور کے ذریعہ ہونے والی گفتگو کو جانے ٹیلی فون کے تاروں پر قائم ہونے والے ربط کا اسے تجربہ تھا، مگر یاد کے تاروں پر قائم ہونے والا ربط اس کے لئے ابھی تک لامعلوم چیز بنا ہوا تھا۔ اس نے اپنے معلوم تجربہ پر قیاس کرتے ہوئے سمجھ لیا کہ سامنا نہ ہوتے ہوئے اگر گفتگو ہوتی ہے تو یقیناً وہ ٹیلی فون پر ہوتی ہوگی۔
ایسا ہی کچھ معاملہ دین کا بھی ہے۔ دین خدا سے ان دیکھے روحانی تاروں پر مربوط ہونے کا نام ہے۔ دین نام ہے خدا سے ایسے تعلق کا جس میں بندے اور خدا کے درمیان سرگوشیاں جاری ہو جائیں۔ جب بندہ یادوں کی دنیا میں خدا کو پانے لگے۔ جب بندے کا یہ حال ہو جائے گویا کہ وہ خدا کو دیکھ رہا ہے۔ جب بندہ خدا سے مانگے اور اس کو اس سے ملے۔ مگر جو لوگ صرف ”ٹیلی فون“ کی سطح پر ملاقات کو جانتے ہوں وہ اس غیر ٹیلی فون ربط کو سمجھ نہیں سکتے۔ اس قسم کی باتیں ان لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتیں جو خود ان تجربات سے نہ گزرے ہوں ۔ جن کی فہم ابھی اس طفلانہ سطح پر ہو جب کہ آدمی صرف ظاہری تاروں پر قائم ہونے والے ربط کو جانتا ہے، وہ باطنی تاروں پر قائم ہونے والے ربط سے آشنا نہیں ہوتا۔
ایسے لوگ اپنے مزاج کے مطابق کسی نہ کسی ظاہری چیز میں اٹک کر رہ جاتے ہیں۔ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ خدا سے ربط قائم کرنے کے لئے کسی زندہ یا مردہ بزرگ کا وسیلہ ضروری ہے۔ کچھ لوگ کسی محسوس قبر کو تعلق باللہ کا ذریعہ سمجھ لیتے ہیں۔ کچھ لوگ نوافل اور تسبیحات کی کثرت میں خدا کی قربت کا راز ڈھونڈتے ہیں۔ کچھ لوگوں کے نزدیک جلسے اور جلوس کی دھوم میں خدا ملتا ہے۔ کچھ لوگ ”خدا دشمنوں “ کے خلاف اکھیڑ پچھاڑ کی تحریک کو قربت خداوندی کا ذریعہ خیال کرتے ہیں۔
اس قسم کے لوگوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ دل گدازی کی سطح پر خدا سے مربوط ہونے کی تڑپ ان کے اندر پیدا نہیں ہوتی۔ وہ بس کسی نہ کسی دکھائی دینے والے ”تار“ کو پکڑ لیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اس کے ذریعہ وہ خدا سے ربط قائم کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔