خدا سے تعلق
الرسالہ، مئی ۱۹۸۱، صفحہ ۵
بیہقی نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ قریش کے سردار ایک روز مکہ میں جمع ہوئے۔ انھوں نے کہا کہ اپنے اندر سے ایک ایسے شخص کا انتخاب کرو جو سحر اور کہانت اور شاعری کا بہترین جاننے والا ہو اور اس کو محمدؐ کے پاس بھیجو۔ اس شخص نے ہماری جماعت میں تفریق ڈال دی ہے۔ ہمارے معاملہ کو منتشر کر دیا ہے اور ہمارے دین کو عیب لگایا ہے۔ وہ محمدؐ سے جا کر بات کرے اور دیکھے کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں۔ لوگوں نے کہا کہ اس کام کے لئے ہم عتبہ بن ربیعہ سے بہتر کسی شخص کو نہیں جانتے۔
اس کے بعد عتبہ بن ربیعہ رسوال اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ اس نے کہا اے محمدؐ، تم بہتر ہو یا تمھارے باپ عبداللہ بہتر تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چپ رہے، عتبہ نے دوبارہ کہا، تم بہتر ہو یا تمھارے دادا عبد المطلب بہتر تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اب بھی چپ رہے۔ عتبہ نے کہا، اگر تمھارا یہ خیال ہو کہ یہ لوگ تم سے بہتر تھے تو انھوں نے انھیں معبودوں کی پرستش کی ہے جن کو تم عیب لگاتے ہو۔ اور اگر تمھارا خیال یہ ہو کہ تم ان سے بہتر ہو تو تم اپنی بات کہو تا کہ ہم سنیں۔ عتبہ جب اپنی بات سے فارغ ہو چکا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بسم اللہ الرحمن الرحیم کہہ کر سورہ حم سجدہ کی ابتدائی تیرہ آیتیں پڑھیں۔ یہاں تک کہ آپ پڑھتے ہوئے اس آیت پر پہنچے کہ ____________ پس اگر وہ اعراض کریں تو ان سے کہہ دو کہ میں تم کو اسی طرح کے صاعقہ (کڑک) سے ڈراتا ہوں جیسا کڑکا عاد اور ثمود پر نازل ہوا (۱۳) عتبہ نے اس کو سن کر کہا : بس، کیا اس کے سوا کچھ اور تمھارے پاس نہیں۔ آپ نے کہا نہیں۔ عتبہ قریش کے پاس واپس آیا۔ اس کے بعد عتبہ اور قریش کے درمیان گفتگو کی جو رو داد نقل ہوئی ہے اس کے چند الفاظ یہ ہیں : ما فهمت شيئاً مما قال غير انه ان ذکم انھوں نے جو کہا میں اس کو کچھ نہیں سمجھا، سو اس کے کہ صاعقة مثل صاعقة عاد و ثمود - فتـالو انھوں نے تم کو عاد و ثمود جیسے کڑکے سے ڈرایا ہے قریش نے ویلک يكلمك الرجل بالعربية لا تدرى کہا، تمھارا برا ہو، آدمی تم سے عربی زبان میں کلام کرتا ہے ما قال - قال لا والله ما فهمت شيئاً مما اور تم سمجھے نہیں کہ اس نے کیا کہا۔ عتبہ نے کہا۔ خدا کی قال غير ذكر الصاعقة قسم میں کڑکے کے ذکر کے سوا اور کچھ نہیں سمجھا۔
قرآن کی اکتا لیسویں سورہ کی یہ آیتیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عتبہ بن ربیعہ کو سنائیں ان کو پڑھئے اور پھر غور کیجئے کہ ان آیتوں میں جو بات کہی گئی ہے وہ عتبہ کی سمجھ میں کیوں نہ آسکی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ قرآنی الفاظ کے عربی مفہوم کو تو وہ جانتا تھا مگر ان کے اندر چھپے ہوئے معانی سے وہ نا آشنا تھا۔ ان آیتوں میں آخرت کی اہمیت کا ذکر ہے جب کہ عتبہ صرف دنیا کی اہمیت سے باخبر تھا۔ ان میں خدا کی بڑائی کا چرچا ہے جب کہ عتبہ صرف انسانوں کی بڑائی سے آشنا تھا۔ ان میں کائنات کو خدائی نشانی کی حیثیت