ہر معاملے میں احتیاط
الرسالہ، مئی ۱۹۸۱، صفحہ ۷
ہر معاملے میں احتیاط
غیر مومن ایک بے حس انسان ہوتا ہے اور مومن ایک حساس انسان۔ مومن کی حساسیت صرف خدا یا اس کی مقدس چیزوں ہی میں ظاہر نہیں ہوتی بلکہ خدا کی تمام مخلوقات کے معاملہ میں ظاہر ہوتی ہے۔
مومن کا سابقہ جب کسی انسان سے پیش آتا ہے، خواہ وہ کمزور ہو یا طاقت ور، تو وہ ایک محتاط قلب کے ساتھ اس کے وہ تمام حقوق ادا کرتا ہے جو خدا نے ایک انسان کے لئے دوسرے انسان کے اوپر مقرر کئے ہیں۔ وہ جب کسی جانور کو اپنے استعمال میں لاتا ہے تو اس وقت بھی وہ ہربانی کے تمام آداب کا لحاظ رکھتا ہے، حتیٰ کہ موذی جانوروں کو مارنا پڑے تو اس وقت بھی وہ ان کو بے رحمی کے ساتھ تکلیف دے دے کر مارنا اپنے لئے جائز نہیں سمجھتا۔ اس کی حساسیت اس میں بھی رکاوٹ بن جاتی ہے کہ وہ کسی درخت کو خواہ مخواہ کاٹے اور کسی پھول کو بے ضرورت مسلے۔ پانی سے کام لیتے ہوئے بھی وہ اس کا خیال رکھتا ہے کہ بے فائدہ پانی نہ بہائے اور غیر ضروری طور پر خدا کی نعمت کو خرچ نہ کرے۔
ایمان آدمی کے اندر جو احتیاط اور حساسیت پیدا کرتا ہے وہ اس کا عمومی مزاج بن جاتی ہے اور اس کی تمام کارروائیوں میں ظاہر ہوتی رہتی ہے۔ اس کا بولنا، اس کا چلنا پھرنا، اس کا معاملہ کرنا، حتیٰ کہ بے جان اور بے زبان چیزوں کو کام میں لانا، سب کچھ اس کے اس عام مزاج کے ماتحت ہو جاتے ہیں۔ جذباتی مواقع پر بھی وہ احتیاط کے پہلو کو نہیں بھولتا، قالویافتہ ہونے کے باوجود کسی کو اس سے بے رحمی اور بے حسی کا تجربہ نہیں ہوتا۔
مومن آدمی وہ ہے جس کو یہ کھٹکا لگا ہوا ہو کہ اس کا خدا اس کو دیکھ رہا ہے اور وہ اس سے اس کے تمام کھلے اور چھپے کا حساب لے گا۔ ایسا آدمی عین اپنے مزاج کے اعتبار سے ایک محتاط آدمی بن جاتا ہے۔