خدا سے تعلق
الرسالہ، مئی ۱۹۸۱، صفحہ ۶
سے پیش کیا گیا ہے جب کہ عقبہ کائنات کو صرف ایک مادی نشانی کی حیثیت سے جانتا تھا۔ عقبہ کے جینے کی سطح وہ نہ تھی جو قرآن کی سطح ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ قرآن کے ان قیمتی الفاظ میں چھپی ہوئی معنویت کو سمجھنے سے عاجز رہا۔ حقیقت اتنی لطیف چیز ہے کہ وہ لفظوں کی پکڑ میں نہیں آتی۔ الفاظ محدود ہوتے ہیں اور حقیقت غیر محدود۔ پھر کیسے ممکن ہے کہ حقیقت کو لفظوں میں ڈھالا جا سکے۔ آپ کسی کے کان میں الفاظ داخل کر سکتے ہیں مگر کسی کے کان میں معانی کو داخل نہیں کیا جا سکتا۔ جو آدمی ٹیلی وژن کے بارے میں کچھ نہ جانتا ہو اس کو محض ”ٹیلی وژن" کا لفظ بول کر آپ ٹیلی وژن سے باخبر نہیں کر سکتے۔ کوئی بات ہمیشہ لفظوں کے ذریعہ کہی جاتی ہے مگر الفاظ اصل بات کی علامت ہیں نہ کہ اصل بات کا بدل۔ وہ کون سا لفظ ہے جس میں آپ پھول کی خوشبو بھر سکیں ۔ وہ کون سا لفظ ہے جس میں آپ سورج کی گرمی داخل کر سکیں۔ وہ کون سا لفظ ہے جو کہکشاں کی وسعتوں کی نمائندگی کرسکے۔ جو شخص پھول اور سورج اور کہکشاں سے واقف ہو اس کے لئے پھول اور سورج اور کہکشاں کے الفاظ کوئی معنی رکھتے ہیں۔ مگر جو شخص پھول اور سورج اور کہکشاں کے بارے میں کوئی ذاتی واقفیت نہ رکھتا ہو اس کو محض یہ الفاظ بول کر آپ قدرت کے ان حیرت ناک واقعات سے متعارف نہیں کر سکتے جن کو پھول اور سورج اور کہکشاں کہا جاتا ہے۔ آپ پھول کا لفظ بول کر کسی کو اس کی خوشبو نہیں سنگھا سکتے۔ آپ سورج کا لفظ بول کرکسی کو اس کی روشنی اور حرارت کا تجربہ نہیں کرا سکتے۔ آپ کہکشاں کا لفظ بول کر کسی کو کہکشاں کی وسعتوں کا مشاہدہ نہیں کرا سکتے۔
حقیقت یہ ہے کہ جو جانے اسی کو بتایا جا سکتا ہے۔ جو نہ جانے اس کو کوئی بات بتانا ممکن نہیں۔ جہاں لوگ صرف الفاظ کی زبان سمجھتے ہوں وہاں معانی کی زبان میں کوئی نغمہ کس کے لئے چھیڑا جائے ۔ جہاں لوگ صرف ظاہری حقیقتوں کو جانتے ہوں وہاں چھپے ہوئے حقائق سے پردہ کس کے لئے اٹھایا جائے ۔ جہاں لوگ صرف اپنی ذات کی سطح پر جیتے ہوں وہاں اپنی ذات سے بلند سطح کی باتوں کا اظہار کس کے لئے کیا جائے ۔ جہاں لوگ صرف شور و غل کو کام سمجھتے ہوں وہاں خاموش منصوبہ کاراز کھولا جائے تو کون ہوگا جو اس کو سنے اور کون ہوگا جو اس کو سمجھے۔ جب لوگوں کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی ہو تو کیسے لوگوں کو بتایا جائے کہ یہاں ایک روشن سورج چمک رہا ہے، جب لوگوں نے اپنے کانوں میں ڈاٹ لگا رکھے ہوں تو کیسے ان کو باخبر کیا جائے کہ یہاں ہرے بھرے درخت حمد الہی کے نغمے سنا رہے ہیں ۔ خدا منتظر ہے کہ کوئی اس کا نغمہ چھیڑے، کوئی اس کی حمد کا ترانہ سنائے۔ مگر انسانوں کے بھرے ہوئے سمندر میں کوئی نہیں جو خدا کا نغمہ گائے، جو آخرت کی بانسری بجائے ۔ جو فرشتوں کے چھیڑے ہوئے تاروں سے ہم آواز ہو کر حقیقت اعلیٰ کے گیت گائے۔