واعظ کون کرے
الرسالہ، مئی ۱۹۸۱، صفحہ ۱۰
واعظ کون کرے
ایک بزرگ نے فرمایا : وعظ وہ شخص کرے جس کو وعظ کا کم سے کم اتنا تقاضا ہو جتنا ایک شخص کو رفع حاجت کا ہوتا ہے ۔ وعظ کا مطلب ریکارڈ بجانا نہیں ہے اور نہ یہ مقصد ہے کہ ایک شاندار تقریر کر کے لوگوں سے یہ دادلی جائے کہ خوب بولے۔ وعظ کا مطلب اپنے اندرون کو انڈیلنا ہے ، ایک پائی ہوئی حقیقت کو دوسروں تک پہنچانا ہے۔ ایک چھپی ہوئی بات کو لوگوں پر کھولنے کے لئے زندہ گواہ بن کر کھڑا ہونا ہے۔ اس قسم کا وعظ محض کچھ الفاظ بولنا نہیں بلکہ ایک مشکل ترین عمل کرنا ہے۔ کوئی شخص حقیقی معنوں میں یہ عمل اسی وقت کر سکتا ہے جب کہ وہ اپنی بات کو کہنے کے لئے اتنا مضطرب ہو چکا ہو کہ وہ محسوس کرے کہ اس کو ہر قیمت پر اپنی بات لوگوں تک پہنچانی ہے ، خواہ اس کے لئے لوگ اس سے ناراض ہو جائیں اور خواہ اس کی راہ میں اس کو اپنا سب کچھ کھودینا پڑے۔
یہی معاملہ تحریر کا بھی ہے۔ آدمی کو چاہئے کہ اتنا زیادہ مطالعہ کرے کہ معلومات اس کے ذہن سے ابلنے لگیں۔ متعلقہ موضوع پر جو ذخیرہ تیار ہو چکا ہے اس کو چھاننے کے بعد وہ محسوس کرے کہ اب بھی کچھ لکھنے کے لئے باقی ہے۔ اس کا حال یہ ہو جائے کہ اس کی معلومات تھامے نہ تھمیں اور اس کی بے تابی روکے نہ رکے ۔ جب یہ نوبت آ جائے اس وقت آدمی کو لکھنے کے لئے اٹھنا چاہئے۔ اس کے بغیر جو لوگ لکھیں وہ صرف سفید کاغذ کو سیاہ کرنے کا کام کریں گے اور اس کے بغیر جو لوگ بولیں وہ صرف فضائی شور و غل میں اضافہ کا باعث ہونگے اس طرح کا لکھنا اور بولنا نہ سننے والوں کو کوئی فائدہ دیتا ہے اور نہ سنانے والوں کو۔ وعظ کا وعظ کوئی کھیل تماشا نہیں ، وہ بندوں کے سامنے خدا کی نمائندگی ہے۔ اس کام کو کرنے کا حق صرف اس شخص کو ہے جو اپنی ہستی کو خدا میں گم کر دے۔ جو لوگ اس کے بغیر واعظ بنیں وہ حقیقتاً مجرم ہیں نہ کہ واعظ۔