Al-Risala · May 1981 · page 11

واعظ کون کرے

الرسالہ، مئی ۱۹۸۱، صفحہ ۱۱

البرٹ آئن سٹائن (۱۹۵۵ء-۱۸۷۹ء) نے زمان ومکان کے بارے میں جو نظریہ پیش کیا تھا۔ اس نے اس کو غیر معمولی شہرت دی۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ آئن سٹائن کی سائنسی قیمت حقیقتًا اس سے کم تھی جتنی اس کو شہرت حاصل ہوئی۔ اس کی وجہ کیا تھی۔ اس کی ایک توجیہہ یہ کی گئی ہے کہ آئن سٹائن کی تحقیقات کا تعلق کائنات کی ابدی حقیقتوں سے تھا اور جو آدمی کائنات کی ابدی حقیقتوں میں جھانکنے کی کوشش کرتا ہے وہ لوگوں کی نظر میں خصوصی اہمیت حاصل کر لیتا ہے۔ ایک مبصر نے لکھا ہے :

Whoever finds that which enables us to obtain a deeper glimpse into the eternal secrets of nature has been given great grace. That was the grace of Albert Einstein’s unique greatness — to try to find such thoughts. The Hindustan Times, March 15, 1981 جو شخص کوئی ایسی دریافت کرتا ہے جو ہم کو اس قابل بنائے کہ ہم فطرت کے رازوں کی کوئی گہری جھلک دیکھ سکیں اس کو بہت زیادہ عزت دی جاتی ہے۔ البرٹ آئن سٹائن کو جو خصوصی عزت ملی وہ اسی لئے تھی کہ اس نے اس قسم کے افکار تک پہنچنے کی کوشش کی۔

کائنات کی ابدی حقیقتوں کو جاننے کی خواہش انسان کی فطرت میں اس طرح سمائی ہوئی ہے کہ وہ کسی طرح اپنے کو اس سے الگ نہیں کر سکتا۔ قدیم ترین زمانہ سے انسان فطرت کے ابدی رازوں کی کھوج میں رہا ہے۔ مگر ابھی تک وہ ان کو پا نہ سکا۔ انسان اگر اپنی ذاتی کوششوں سے اس حقیقت تک نہیں پہنچا تو وہ اس کے لئے معذور تھا۔ اس کی محدودیت اس کی راہ میں فیصلہ کن طور پر حائل تھی۔ تاہم سوال یہ ہے کہ قدیم ترین زمانہ سے پیغمبر اس راز سے پردہ ہٹاتے رہے ہیں۔ پھر تلاش کے باوجود انسان نے کیوں پیغمبروں کے جواب کو نہیں مانا۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ پیغمبر کا جواب اپنے ساتھ جزا و سزا اور جنت و جہنم کا تصور لاتا ہے۔ وہ انسان سے تقاضا کرتا ہے کہ وہ اپنی آزاد زندگی کو ختم کر دے اور زمین پر ایک قسم کی پابند زندگی گزارے۔ یہی وجہ ہے کہ انسان اپنی تلاش کے پیغمبرانہ جواب کو ماننے پر تیار نہیں ہوتا۔ وہ برابر اس کوشش میں رہتا ہے کہ وہ فطرت کے رازوں کا کوئی ایسا حل دریافت کرے جو اس کی تلاش کا جواب تو ہو مگر وہ اس کی زندگی پر کوئی پابندی نہ لگائے ، وہ اس کو مستقبل کے اندیشوں میں مبتلا کرنے والا نہ ہو۔ بے شمار لوگ نام نہاد روحانی شخصیتوں کے جواب کو مان لیتے ہیں، مگر وہ پیغمبروں کے جواب کو ماننے پر راضی نہیں ہوتے۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ روحانی شخصیتوں کے جواب میں صرف روحانی آنند ہے، اس میں روحانی کھٹک کا کوئی خانہ نہیں۔ جب کہ پیغمبروں کا جواب آدمی سے اس کی آزادی چھین لیتا ہے، وہ زندگی بھر کے لئے آدمی کو آخرت کے اندیشے میں مبتلا کر دیتا ہے۔ کامیابی کا راز حقیقت سے مطابقت میں ہے نہ کہ حقیقت سے فرار میں ۔ اگر اصل حقیقت وہی ہو جس کی طرف پیغمبروں نے رہنمائی کی ہے تو اس کے سوا کسی اور حقیقت کی تلاش میں لگنا اپنے وقت کو ضائع کرنا ہے۔ جو چیز فی الواقع موجود نہ ہو اس کو کوئی شخص کہاں سے برآمد کر سکتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1981 All issues

Printed page