Al-Risala · May 1981 · page 30

الاعراف ، ۷

الرسالہ، مئی ۱۹۸۱، صفحہ ۳۰

اور وہ اللہ ہی ہے جو ہواؤں کو اپنی رحمت کے آگے خوش خبری بنا کر بھیجتا ہے۔ پھر جب وہ بوجھل بادلوں کو اٹھالیتی ہیں تو ہم اس کو کسی خشک سرزمین کی طرف ہانک دیتے ہیں۔ پھر ہم اس کے ذریعہ پانی اتارتے ہیں۔ پھر ہم اس کے ذریعہ سے ہر قسم کے پھل نکالتے ہیں۔ اسی طرح ہم مردوں کو نکالیں گے، تاکہ تم غور کرو۔ اور جو زمین اچھی ہے اس کی پیداوار نکلتی ہے اس کے رب کے حکم سے اور جو زمین خراب ہے اس کی پیداوار کم ہی ہوتی ہے۔ اسی طرح ہم اپنی نشانیاں مختلف پہلوؤں سے دکھاتے ہیں ان کے لئے جو شکر کرنے والے ہیں ۵۷- ۵۸۔ دنیا کو خدا نے اس طرح بنایا ہے کہ اس کے مادی واقعات اس کے روحانی پہلوؤں کی تمثیل بن گئے ہیں۔ جب کہیں بارش ہوتی ہے تو اس مقام کے ہر حصہ تک اس کا پانی یکساں طور پر پہنچتا ہے۔ مگر فیض اٹھانے کے اعتبار سے مختلف زمینوں کا حال مختلف ہوتا ہے۔ کوئی حصہ وہ ہے کہ پانی اس کو ملا تو اس کے اندر سے ایک لہلہاتا ہوا چمنستان نکل آیا۔ دوسری طرف کسی حصہ کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ بارش پا کر بھی بے فیض پڑا رہتا ہے ۔ وہاں جھاڑ جھنکار کے سوا کچھ نہیں اگتا۔

یہی حال اس روحانی بارش کا ہے جو خدا کی طرف سے ہدایت کی صورت میں اتری ہے۔ اس ہدایت کا پیغام ہر آدمی کے کانوں تک پہنچتا ہے۔ مگر فائدہ ہر ایک کو اپنی اپنی استعداد کے بقدر ملتا ہے۔ جس کے اندر قبول حق کی صلاحیت زندہ ہے وہ اس سے بھر پور فیض حاصل کرتا ہے۔ اس سے اس کو ایک نئی زندگی ملتی ہے۔ اس کی فطرت اچانک جاگ اٹھتی ہے۔ اس کا ربط اپنے مالکِ اعلیٰ سے قائم ہو جاتا ہے۔ اس کی خشک نفسیات میں ربانی کیفیات کا باغ کھل اٹھتا ہے۔

اس کے برعکس حال اس شخص کا ہوتا ہے جس نے اپنی فطری سلامتی کو کھو دیا ہو۔ ہدایت کی بارش اپنے تمام بہترین امکانات کے باوجود اس کو کوئی فائدہ نہیں پہنچاتی۔ اس کے بعد بھی وہ ویسا ہی خشک پڑا رہتا ہے جیسا کہ وہ اس سے پہلے تھا۔ اور اگر اس کے اندر کوئی فصل نکلتی ہے تو وہ بھی جھاڑ جھنکار کی فصل ہوتی ہے۔ ہدایت کی بارش پا کر اس کے اندر سے حسد، کبر، حجت بازی، حق کی مخالفت جیسی چیزیں جاگ اٹھتی ہیں نہ کہ حق کا اعتراف کرنے اور اس کا ساتھ دینے کی۔

بارش کے پانی کو قبول کرنے کے لئے زمین کا خشک ہونا ضروری ہے۔ جو زمین خشک نہ ہو، پانی اس کے اوپر سے گزر جائے گا، وہ اس کے اندر داخل نہیں ہوگا۔ اسی طرح خدا کی ہدایت صرف اس آدمی کے اندر جڑ پکڑتی ہے جو اس کا طالب ہو، جس نے اپنی روح کو غیر خدائی باتوں سے خالی کر رکھا ہو۔ اس کے برعکس جو شخص خدا کی ہدایت سے بے پروا ہو، جس کا دل دوسری دلچسپیوں یا دوسری عظمتوں میں اٹکا ہوا ہو، اس کے پاس خدا کی ہدایت آئے گی مگر وہ اس کے اندرون میں داخل نہیں ہوگی، وہ اس کی روح کی غذا نہیں بنے گی، وہ اس کی فطرت کی زمین کو سیراب کر کے اس کے اندر خدا کا باغ نہیں اگائے گی۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1981 All issues

Printed page