الاعراف ، ۷
الرسالہ، مئی ۱۹۸۱، صفحہ ۲۹
تذکیر القرآن الاعراف ۷ بے شک تمھارا رب وہی اللہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا۔ پھر وہ عرش پر متمکن ہوا۔ وہ اُڑھاکھتا ہے رات کو دن پر، دن اس کے پیچھے لگا آتا ہے دوڑتا ہوا۔ اور اس نے پیدا کئے سورج اور چاند اور ستارے، سب تابع دار ہیں اس کے حکم کے۔ یاد رکھو، اسی کا کام ہے پیدا کرنا اور حکم کرنا۔ بڑی برکت والا ہے اللہ جو رب ہے سارے جہان کا! اپنے رب کو پکارو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے۔ یقیناً وہ حد سے گزرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ اور زمین میں فساد نہ کرو اس کی اصلاح کے بعد۔ اور اسی کو پکارو خوف کے ساتھ اور طمع کے ساتھ۔ یقیناً اللہ کی رحمت نیک کام کرنے والوں سے قریب ہے ۵۴-۵۶ زمین و آسمان اور اس کی تمام چیزوں کا پیدا کرنے والا خدا ہے۔ اس پیدا کرنے کی ایک صورت یہ بھی تھی کہ وہ تمام چیزوں کو بناکر ان کو انتشار کی حالت میں چھوڑ دیتا۔ مگر اس نے ایسا نہیں کیا۔ اس نے تمام چیزوں کو ایک حد درجہ کامل اور حکیمانہ نظام کے تحت جوڑا اور ان کو اس طرح چلایا کہ ہر چیز ٹھیک اسی طرح کام کرتی ہے جیسا کہ مجموعی مصلحت کے اعتدال سے اس کو کرنا چاہئے۔
انسان بھی اسی دنیا کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے۔ پھر ایسی اصلاح یافتہ دنیا میں اس کا رویہ کیا ہونا چاہئے۔ اس کا رویہ وہی ہونا چاہئے جو بقیہ تمام چیزوں کا ہے۔ وہ بھی اپنے آپ کو اسی خالق کے منصوبے میں دے دے جس کے منصوبے میں بقیہ کائنات پوری تابعداری کے ساتھ اپنے آپ کو دئے ہوئے ہے۔
کائنات کی تمام چیزیں احسان (حسن کارکردگی) کی حد تک اپنے آپ کو خدا کے منصوبہ میں شامل کئے ہوئے ہیں۔ اس لئے انسان کو بھی احسان کی حد تک اپنے آپ کو اس کے حوالے کر دینا چاہئے۔ یہاں کوئی چیز بھی اعتبار (اپنی مقررہ حد سے تجاوز) نہیں کرتی۔ اس لئے انسان کے واسطے بھی لازم ہے کہ وہ عدل اور حق کی خدائی حدوں سے تجاوز نہ کرے۔ مزید یہ کہ انسان نطق اور شعور کی اضافی خصوصیات رکھتا ہے۔ اس لئے نطق اور شعور کی سطح پر بھی اس کی خالقی رب کا اظہار ہونا ضروری ہے۔ انسان کے اندر خدا کی معرفت اتنی گہرائی تک اتر جانا چاہئے کہ اس کی زبان سے بار بار اس کا اظہار ہونے لگے۔ وہ خدا کو اس طرح پکارے جس طرح بندہ اپنے خالق و مالک کو پکارتا ہے۔ اس کو خدا کی خدائی کا اتنا ادراک ہونا چاہئے کہ خدا کے سوا اس کی امیدوں اور اس کے اندیشوں کا کوئی مرجع باقی نہ رہے۔ وہ خدا ہی سے ڈرے اور اسی سے اپنی تمام تمنائیں وابستہ کرے۔ خدا کے ساتھ خوف اور طمع کو وابستہ کرنا خدا کی تابعداری کی آخری اور انتہائی صورت ہے۔
بندے کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ اس کو خدا کی رحمت حاصل ہو، مگر یہ رحمت صرف ان اشخاص کا حصہ ہے جو اللہ کے ساتھ اپنے آپ کو اتنا زیادہ متعلق کر لیں کہ ان کے تمام جذبات کا رخ اللہ کی طرف ہو جائے۔ وہ اسی کو پکاریں اور اسی کے ساتھ عاجزی کریں۔ ان کو پانے کی امید اسی سے ہو اور رھنے کا ڈر بھی اسی سے۔ یہی لوگ ہیں جنہوں نے خدا کی قربت چاہی اس لئے خدا نے بھی ان کو اپنے قریب جگہ دے دی۔