جدید علم کلام
الرسالہ، مئی ۱۹۸۱، صفحہ ۳۲
سائنسی انقلاب سے پہلے انسانی فکر کی بنیاد فلسفیانہ قیاسات پر قائم تھی، سائنسی انقلاب کے بعد انسانی فکر کی بنیاد معلوم حقائق و واقعات پر رکھی گئی ہے۔ اسی سے قدیم علم کلام اور جدید علم کلام کا فرق سمجھا جاسکتا ہے۔ قدیم علم کلام کی بنیاد فلسفیانہ طرز استدلال پر تھی، جدید علم کلام کی بنیاد فطری طرز استدلال پر ہے۔ پہلے قیاسی منطق کے ذریعہ بات کو ثابت کیا جاتا تھا اب وہ زمانہ ہے کہ بات کو حقیقی شواہد کے ذریعہ ثابت کیا جائے۔ جدید ذہن کی اس مختصر وضاحت کے بعد اب میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ جدید طرز استدلال دوسروں کے لئے خواہ جدید ہو مگر اسلام کے لئے وہ جدید نہیں ۔ اگر اس حقیقت کو سامنے رکھا جائے کہ قرآن کا طرز استدلال عین وہی ہے جس کو موجودہ زمانہ میں حقائق فطری سے استدلال کہا جاتا ہے تو یہ کہنا بالکل صحیح ہوگا کہ جدید علم کلام دراصل قرآنی علم کلام ہے۔ جدید علم کلام اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ وہ قرآنی کلامیات کی طرف لوٹنا ہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ چار ہزار سال پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب قدیم عراق کی مشرک قوم کے سامنے توحید کی دعوت پیش کی تو سورج، چاند اور ستاروں کے مشاہدات سے اپنی دعوت کے اوپر دلیل قائم کی۔ آنجناب کا یہ واقعہ سورہ انعام (رکوع (۹) میں بیان ہوا ہے۔ وہاں قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں : وتلك حجتنانا آتينا ها ابراهيم علی قومہ (یہ ہماری دلیل ہے جو ہم نے ابراہیم کو اس کی قوم کے اوپر عطا کی) یہاں حجت کا لفظ بتاتا ہے کہ حضرت ابراہیم نے جو انداز کلام اختیار کیا وہ خدائی انداز کلام تھا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ حجت خداوندی یا استدلال الہی کا طریقہ یہ ہے کہ کائنات کے معلوم و مشہود حقائق سے استدلال کیا جائے۔ بلکہ اس سے آگے بڑھ کر یہ کہنا صحیح ہوگا کہ خدا نے اپنی کتاب میں جو تعلیم قلمی طور پر دی ہے، ساری کائنات کو اس کے حق میں عملی دلیل بنا دیا ہے۔ پھر جو دلیل خود خدا نے مقرر کی ہو اس سے بڑھ کر دلیل اور کون سی ہو سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک طرف قرآن میں کہا گیا ہے کہ ھذ کتابنا ينطق عليكم بالحق (جاثیہ (۲۹) اور دوسری طرف کائنات کے بارے میں ارشاد ہوا ہے کہ ما خلقنا هما الا بالحق (دخان (۳۹) قرآن اور کائنات دونوں ایک ہی مشیت ربانی کا اظہار ہیں، ایک جگہ یہ اظہار لفظی صورت میں ہورہا ہے اور دوسری جگہ عملی صورت میں ۔
قرآن سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہی طریقہ خدا کے تمام پیغمبروں نے اختیار کیا۔ حضرت نوح علیہ السلام انتہائی قدیم زمانہ کے پیغمبر ہیں۔ مگر آنجناب کا طرز استدلال بھی ٹھیک وہی تھا جس کو آج ہم فطری یا حقیقی شواہد پر مبنی استدلال کہتے ہیں۔ سورہ نوح کو دیکھئے ۔ حضرت نوح کی زبان سے ارشاد ہوا ہے: فقلت استغفرواربکم انه كان غفارا - يرسل السماء عليكم مدرارا - ويمددكم باموال وبنين - ويجعل لكم جنات ويجعل لكم انهارا - ما لكم لا ترجون لله وقارا - وقد خلقكم اطوارا - الم تروا كيف خلق الله سبع سماوات طباقا۔ وجعل القمر فيهن نورا وجعل الشمس سر اجا - والله انبتكم من الارض نباتا - ثم يعيد كم فيها