Al-Risala · May 1981 · page 33

جدید علم کلام

الرسالہ، مئی ۱۹۸۱، صفحہ ۳۳

و يخرجکم اخراجا ۔ واللہ جعل لکم الارض بساطا لتسلكوا منها سبلا فجاجا (نوح) اس کے بعد آپ قرآن کے دعوتی اسلوب کو دیکھئے تو اس میں بھی آپ کو ہر جگہ یہی طریقہ ملے گا ۔ حقیقت یہ ہے کہ سارا قرآن اسی انداز دعوت سے بھرا ہوا ہے جس کو ہم نے فطری انداز کہا ہے۔ مثلاً افلا ينظرون الى الابل كيف خلقت ۔ و الى السماء كيف رفعت ۔ والی الجبال كيف نصبت والی الارض كيف سطحت (غاشیہ)

یہی اصل اسلامی استدلال ہے۔ یہی خدا کے تمام پیغمبروں نے اختیار کیا اور اسی سے سارا قرآن بھرا ہوا ہے۔ مگر دوسری صدی ہجری میں عباسی خلافت کے زمانہ میں جب علوم اسلامی کی تدوین ہوئی تو بعض اتفاقی اسباب کے نتیجہ میں اسلامی علم کلام کو قدیم منطق و فلسفہ کی بنیاد پر مرتب کر دیا گی۱۔ امام غزالی کے زمانہ میں یہی علم کلام اسلامی مدارس کے نصاب میں داخل ہو گیا۔ اس کے بعد نسل درنسل یہ سلسلہ چلتا رہا۔ حتی کہ علم کلام ایک منطقی علم کے ہم معنی قرار پا گیا۔ مگر یہ قرآن سے سراسر انحراف تھا۔ یہ علم کلام اسلامی استدلال کی بنیاد قیاسی منطق پر رکھ رہا تھا جب کہ قرآن نے اسلامی استدلال کی بنیاد فطرت کے شواہد پر رکھی تھی۔ منطقی کلامیات کا لوگوں کے اوپر اتنا غلبہ ہوا کہ ایک ہزار سال تک بھی وہ اس سے باہر نہ آسکتے ۔ تا ہم موجودہ زمانہ میں خود خارجی حالات ہم کو مجبور کر رہے ہیں کہ ہم اس کو چھوڑیں اور دوبارہ قرآن کے فطری اسلوب کی طرف واپس جائیں۔ سائنسی انقلاب سے پہلے یہ علم کلام کم از کم علمی حیثیت سے کچھ قدر و قیمت رکھتا تھا۔ مگر آج وہ علمی قدر قیمت بھی کھو چکا ہے اور دعوتی افادیت جو پہلے بھی اس کے اندر موجود نہ تھی وہ اب اور زیادہ اس سے دور جاچکی ہے۔

جدید علم کلام ، بالفاظ دیگر، قرآنی علم کلام کیا ہے۔ اس کو قرآنی آیات کے تتبع سے متعین کیا جا سکتا ہے۔ میں یہاں مختصر طور پر قرآنی کلامیات کے چند پہلوؤں کو بیان کروں گا۔ یہ پہلو قرآنی علم کلام کو جاننے کے لئے بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔

ا۔ قرآنی کلامیات کے پہلے اصول کو سمجھنے کے لئے مندرجہ ذیل آیت پر غور کیجئے :

يسئلونك عن الروح قل الروح من امر ربي وما لوگ تم سے روح کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ کہو کہ روح خدا اوتيتم من العلم الا قليلا (اسراء (۸۵) کے حکم سے ہے۔ اور تم کو صرف تھوڑا علم دیا گیا ہے یہاں سوال کرنے والے نے ایک سوال کیا تھا اور وہ سوال کے جواب کا منتظر تھا۔ مگر اس کو کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ سوال کا جواب دینے کے بجائے خود سوال کی حوصلہ شکنی کی گئی۔ اس سے معلوم ہوا کہ بعض سوالات ایسے ہوتے ہیں جن کا حقیقی جواب آدمی کے حدود فہم سے باہر ہوتا ہے۔ وہ ایسے جوابات کو اسی طرح نہیں سمجھ سکتا جس طرح ماں کے پیٹ کے اندر کا بچہ باہر کی دنیا کو نہیں سمجھ سکتا۔ اس لئے جب کوئی شخص ایسے سوالات میں الجھے تو اس کی بہترین مدد یہ ہے کہ اس کو ایسے سوالات میں الجھنے سے روکا جائے ۔ اس کے برعکس اگر جواب دینے والا

‹ Previous page Next page › Contents of May 1981 All issues

Printed page