Have Astronomers Found God
الرسالہ، مئی ۱۹۸۱، صفحہ ۴
خدا کے وجود کو فطرت کے قانون کے ذریعہ ثابت کر دیا ہے کیونکہ ایک جمے ہوئے مادی گولے کے اندر ایک وقت خاص میں بیرونی سمت کی طرف مسلسل حرکت کسی خارجی محرک کے بغیر نہیں ہوسکتی۔ اس نظریہ پر ایک امریکی سائنس داں رابرٹ جیسٹرو (Robert Jastrow) کی مضمون شائع کرتے ہوئے ریڈرز ڈائجسٹ (اکتوبر ۱۹۸۰) کے اس کا عنوان ان الفاظ میں قائم کیا ہے: کیا فلکیاتی علماء خدا کو پاگئے ہیں:
Have Astronomers Found God
وہ سائنس داں جنہوں نے یہ عقیدہ بنا لیا تھا کہ کائنات کے ہر واقعہ کا اس طرح عقلی توجیہہ کی جاسکتی ہے کہ وہ اپنے ماضی کے کسی طبعی واقعہ کا نتیجہ نظر آئے۔ ایسے لوگ اس دریافت سے بے حد گھبرا اٹھے کیونکہ اس سے کائنات میں طبعی عمل اور ردعمل کے بجائے ایک زندہ خدا کی ارادی کارفرمائی نظر آتی تھی۔ حقائق کا انکار ان کے لئے ممکن نہ تھا، انہوں نے اس واقعہ کی اہمیت کو گھٹانے کے لئے اس کا نام بگ بینگ (بڑا دھماکہ) رکھ دیا۔ گویا کہ کائنات کا آغاز بس ایک بڑا پٹاخہ چھوٹنے کا معاملہ تھا اور بس۔ اسی قسم کے ایک امریکی عالم نے ایک مذہبی شخص سے مذاق کے انداز میں پوچھا کہ خدا نے جب زمین و آسمان نہیں بنائے تھے اس وقت وہ کیا کر رہا تھا۔ مذہبی شخص نے بگڑ کر جواب دیا کہ وہ ان لوگوں کے لئے جہنم تیار کرنے میں مشغول تھا جو اس قسم کے سوالات کرتے ہیں: He was creating hell for people who asked questions like that ب۔ قرآن کہتا ہے کہ موجودہ دنیا آخری دنیا نہیں، اس کے بعد ایک اور دنیا ہے۔ یہ دنیا اگرچہ آج ہم کو اپنی آنکھ سے دکھائی نہیں دیتی مگر وہ ایک مکمل حقیقت کے طور پر موجود ہے۔ قرآن کے اس دعوے کے حق میں بھی قدیم متکلمین نے فلسفیانہ قیاسات کے ذریعہ دلائل قائم کر لئے تھے۔ مگر قرآن نے اس کے حق میں ایسی دلیل پیش کی جس کو انسان اپنے تجرباتی علم کے ذریعہ جان سکتا ہے۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے : ومن كل شيئ خلقنا زوجين لعلكم تذكرون (ذاریات (۴۹) اور ہر چیز کو ہم نے جوڑا جوڑا بنایا تاکہ تم دھیان کرو یعنی جب ہر چیز اپنے جوڑے کے ساتھ مل کر اپنی تکمیل کرتی ہے تو اس کائناتی قانون نے مطابق موجودہ دنیا کا بھی ایک جوڑا ہونا چاہئے جو اس کی تکمیل کرے۔ دنیا کے اسی جوڑے کا نام آخرت ہے۔
آدمی میں اور جانوروں میں جوڑے کا ہونا انسان کو قدیم ترین زمانہ سے معلوم تھا۔ پھر درختوں کے اندر جوڑے ہونے کا علم ہوا۔ تاہم ۱۹۲۸ تک یہ معلوم نہ تھا کہ جامد مادہ کا بھی جوڑا ہوتا ہے۔ اسی سال ریاضیاتی طبیعیات کے ایک عالم پال ڈیراک (Paul A.M. Dirac) نے مادی ذرہ کے ساتھ ایک نئے قسم کے غیر مرئی ذرہ کی موجودگی کا امکان ظاہر کیا۔ ۱۹۳۲ میں اینڈرسن (K. Anderson) نے کاسمک شعاعوں کے مطالعہ کے دوران معلوم کیا کہ الیکٹران کے ساتھ ایک اور ذرہ ہے جو اس کے مخالف برقی چارج رکھتا ہے۔ اس نئے ذرہ کا نام اینٹی