جدید علم کلام
الرسالہ، مئی ۱۹۸۱، صفحہ ۳۵
ان کو آفاق کی اور انفس کی نشانیاں دکھائیں گے تاکہ لوگوں پر واضح ہو جائے کہ قرآن کی دعوت سراسر حق ہے۔ (حم سجدہ ۵۳) اس سلسلے میں یہاں چند مثالیں نقل کی جاتی ہیں :
الف۔ قرآن کی دعوت یہ ہے کہ اس کائنات کا ایک خدا ہے، اس کو مانو۔ اس دعوت کے حق میں دلیل کیا ہے۔ قدیم متکلمین نے اپنے فلسفیانہ ذوق کے تحت اس پر قیاسی دلیلیں قائم کیں۔ مگر قرآن اس کے حق میں مشاہداتی دلیل دیتا ہے۔ قرآن کا کہنا ہے کہ جو کائنات تمھاری آنکھوں کے سامنے ہے اور جس کا تم انکار نہیں کر سکتے، وہی اس بات کی دلیل ہے کہ اس کائنات کا ایک خدا ہے :
أَوَلَمْ يَرَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ کیا انکار کرنے والوں نے نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین ملے كَانَتَا رَتْقاً فَفتَقْنَاهُمَا وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ ہوئے تھے پھر ہم نے ان کو کھول دیا اور ہم نے پانی سے حَيًّ أَفَلَا يُؤْمِنُونَ (انبیاء ۳۰) ہر جاندار کو بنایا، پھر کیا وہ ایمان نہیں لاتے ان آیات میں واضح طور پر اس کا ئناتی واقعہ کی طرف اشارہ ہے جس کو موجودہ زمانہ میں بگ بینگ نظریہ کہا جاتا ہے۔ خدا کی نگاہ میں اول سے آخر تک تمام انسان ہیں۔ وہ غیر زمانی انداز میں خطاب کرتے ہوئے تمام منکروں سے کہہ رہا ہے کہ ایک خدا کی دلیل خود اس کائنات میں موجود ہے جس کو تم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہو۔ پھر تم اس کا انکار کس طرح کر سکتے ہو۔
۱۹۱۲ء میں امریکی عالم فلکیات ویسٹو ملوین سلیفر (Vesto Melvin Slipher) نے لوویل آبزرویٹری میں تحقیق کرتے ہوئے پایا کہ کچھ کہکشائیں تیزی سے بیرونی سمت میں بھاگ رہی ہیں۔ اس کے بعد ایڈوین ہبل (Edwin Hubble) اور ملٹن ہیومیسن (Milton Humason) نے ماؤنٹ ولسن کی سو انچ کی دوربین پر مشاہدہ کر کے بتایا کہ تمام کی تمام کہکشائیں اپنے بیرونی سمت میں تیزی سے چلی جا رہی ہیں۔ پھر ڈچ عالم فلکیات ویلم ڈی سٹر (Willem de Sitter) نے اس نظریہ کے حق میں مزید تائیدی شواہد کئے۔ ۱۹۶۵ء میں تو جرسی کے آرنو پینزیاز (Arno Penzias) اور ولسن (Robert Wilson) نے ابتدائی کائناتی دھماکہ کے دوران نکلی ہوئی بعض شعاعیں (Radiation) دریافت کیں۔ اس قسم کی مختلف دریافتوں کے بعد اب یہ نظریہ ایک ثابت شدہ حقیقت سمجھا جانے لگا ہے۔
اس نظریہ کا مطلب یہ ہے کہ کائنات ہمیشہ سے نہیں ہے بلکہ وہ واضح طور پر اپنا ایک متعین آغاز رکھتی ہے۔ وہ ایک وقت خاص میں شروع ہوئی۔ یہ نظریہ بتاتا ہے کہ ہم ایک پھیلتی ہوئی کائنات میں ہیں۔ ہمارے چاروں طرف کہکشائیں بے حد تیزی سے بیرونی سمت میں بھاگ رہی ہیں۔ حساب سے معلوم ہوا ہے کہ اس بیرونی رفتار کو اگر اندر کی طرف لوٹایا جائے تو تقریباً ۲۰ ہزار ملین سال میں تمام پھیلی ہوئی کائنات سمٹ کر ایک گولابن جائے گی۔ اس نظریہ نے