Al-Risala · May 1981 · page 38

Have Astronomers Found God

الرسالہ، مئی ۱۹۸۱، صفحہ ۳۸

بائبل کا بیان ہے کہ فرعون ڈوب کر ختم ہو گیا۔ وہ اس کی لاش کی موجودگی کا کوئی اشارہ نہیں کرتی۔ تاریخ اس بارے میں مکمل طور پر خاموش ہے۔ قرآن کے نزول کے وقت اور اس کے بعد ایک ہزار سال سے زیادہ مدت تک انسان کو فرعون کی لاش کے متعلق کچھ بھی معلوم نہ تھا۔ مگر قرآن کے کلام اللہ ہونے کی یہ کیسی عجیب شہادت ہے کہ موجودہ زمانہ میں حیرت انگیز طور پر اس کی لاش محفوظ حالت میں دریافت ہو گئی۔ ڈاکٹر موریس نے دس صفحات میں اس کی تفصیل دیتے ہوئے آخر میں لکھا ہے :

Those who seek among modern data for proof of the veracity of the Holy Scriptures will find a magnificent illustration of the verses of the Quran dealing with the Pharoah's body by visiting the Royal Mummies Room of the Egyptian Museum, Cairo The Bible, The Quran and Science, 1976, P. 241 یعنی جو لوگ مقدس کتابوں کی سچائی کے لئے جدید ثبوت مانگتے ہیں وہ قرآن کی ان آیات کو پڑھیں اور اس کے بعد قاہرہ کے میوزیم میں شاہی ممیوں کے کمرہ کو دیکھیں تو وہ اس کی نہایت شان دار تصدیق پا لیں گے :- اس موضوع پر جو لوگ زیادہ تفصیلی مطالعہ کرنا چاہیں وہ ڈاکٹر موریس (Dr. Maurice Bucaille) کی کتاب دی بائبل دی قرآن اینڈ سائنس کا مطالعہ کریں۔ یہ اس موضوع پر ایک قابل قدر کتاب ہے۔ مصنف کو شوق تھا کہ وہ قرآن کے سائنسی بیانات کا جدید تحقیقات سے مقابلہ کریں۔ اس کے لئے انھوں نے برسوں تحقیق کی۔ صرف اسی مقصد سے عربی زبان سیکھی تاکہ قرآن کو براہ راست اس کی زبان میں سمجھ سکیں۔ اس کے بعد انھوں نے ڈھائی سو صفحات پر مشتمل مذکورہ کتاب شائع کی۔

ڈاکٹر موریس نے اپنی اس کتاب میں بہت سے سائنسی حقائق کا مقابلہ قرآن کے بیانات سے کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک قدیم کتاب کی جدید تحقیقات سے اس درجہ مطابقت اس کے بغیر نہیں ہو سکتی کہ وہ بشری ذہن سے ماورا کسی ذہن سے نکلی ہو۔ وہ اپنی کتاب کو ان الفاظ پر ختم کرتے ہیں : In view of the level of knowledge in Mohammad's day, it is inconceivable that many of the statesments in the Quran which are connected with science could have been the work of a man. It is, moreover, perfectly legitimate, not only to regard the Quran as the expression of a Revelation, but also to award it a very special place, on account of the guarantee of authenticity it provides and the presence in it of scientific statements which, when studied today, appear as a challenge to explanation in human terms. (P. محمد کے زمانہ میں علم کی جو سطح تھی اس کو دیکھتے ہوئے یہ بات بالکل ناقابل قیاس ہے کہ قرآن کے بہت سے بیانات جو سائنس سے تعلق رکھتے ہیں وہ کسی آدمی کے لکھے ہوئے ہوں۔ یہ بات پوری طرح معقول ہے کہ قرآن کو نہ صرف خدائی الہام کا ظہور سمجھا جائے بلکہ مزید اس کو ایک بہت امتیازی درجہ دیا جائے ۔ قرآن اپنے مستند ہونے کی جو ضمانت

‹ Previous page Next page › Contents of May 1981 All issues

Printed page