Al-Risala · May 1981 · page 39

Have Astronomers Found God

الرسالہ، مئی ۱۹۸۱، صفحہ ۳۹

دیتا ہے اور اس کے اندر جو سائنسی بیانات ہیں ، جب ان کا مطالعہ آج کیا جاتا ہے تو وہ قرآن کو انسانی کتاب قرار دینے کے خلاف ایک چیلنج معلوم ہوتے ہیں۔

۳۔ قرآنی کلامیات کا تیسرا اصول یہ ہے کہ کائنات کے اس پہلو کو نمایاں کیا جائے کہ خدا نے اس کو ہمارے لئے بطور میزان مقرر کیا ہے۔ قرآن کی دعوت یہ ہے کہ انسان خدا کی اطاعت کرے ، وہ اپنے تچر کو محسوس کرتے ہوئے اپنے آپ کو اپنے خالق و مالک کے آگے ڈال دے ۔ اس مطالبہ کے حق میں قرآن نے فلسفیانہ قسم کے دلائل نہیں قائم کئے بلکہ فطری انداز کے دلائل قائم کئے ۔ اس مسئلہ کو سمجھنے کے لئے ایک آیت کا مطالعہ کیجئے : لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بالبینات و انزلنا معهم ہم نے اپنے پیغمبروں کو نشانیوں کے ساتھ مکھی کیجا اور ان کے الكتاب و الميزان ليقوم الناس بالقسط و ساتھ کتاب اور میزان اتاری تا کہ لوگ قائم رہیں انصاف پر۔ انزلنا الحديد فيه بأس شديد و منافع اور ہم نے لوہا اتارا اس میں بڑی قوت ہے اور لوگوں کے للناس و ليعلم الله من ينصرہ و رسله بالغيب لئے فائدہ ہے۔ اور تا کہ اللہ جان لے کہ کون بے دیکھے اللہ ان الله قوى عزیز (حدید ۲۵) کی اور اس کے رسولوں کی مدد کرتا ہے۔ اللہ قوی اور زبردست ہے۔

میزان عربی زبان میں ترازو کو کہتے ہیں ۔ یعنی وہ آلہ جس سے تول کر کسی چیز کی برابری کسی دوسری چیز سے معلوم کی جائے۔ پوری کا ئنات اس معنی میں خدا کی میزان ہے۔ کائنات کی ہر چیز کو خدا نے اسی حق و عدل کی بنیاد پر قائم کر رکھا ہے جس کا مطالبہ انسان سے کیا جا رہا ہے۔ کائنات کی تمام چیزیں جس عدل پر بحر قائم ہیں اسی عدل پر انسان کو اپنے آزاد ارادہ سے قائم ہونا ہے ۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے کتاب میں اپنی پسند کے تمام عادلانہ طریقے بتا دئے ہیں۔ دوسری طرف کائنات کو عملاً انھیں عادلانہ طریقوں پر قائم کر دیا ہے۔ اب انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ قرآن میں اصول عدل کو پڑھ کر اس سے رہنمائی حاصل کرے ۔ اور اسی کے ساتھ کائنات کے ربانی پیمانہ سے ناپ کر دیکھتا رہے کہ اس کا طریقہ خدا کے پسندیدہ معیار کے مطابق ہے یا نہیں ۔ اس سلسلے میں یہاں میزان کے طور پر لوہے کا ذکر کیا گیا ہے۔ لوہے کی صورت میں اللہ تعالیٰ نے مؤمن کے بے خطا کردار کو مثل کیا ہے ۔ موجودہ زندگی میں ہر قسم کا نفع قابلِ اعتماد کردار سے وابستہ ہے۔ مادہ کی دنیا میں یہی طاقت درکار لوہے کا ہوتا ہے۔ انسان کی دنیا میں یہی طاقت درکار دار خدا کو اپنے بندوں سے مطلوب ہے۔

اس سلسلہ میں ایک مثال شہد کی بھی ہے۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے : اور تیرے رب نے شہد کی مکھی کو حکم دیا کہ پہاڑوں اور درختوں میں اور ٹٹیوں پر چڑھائی ہوئی بیلوں میں اپنے گھر بنا ۔ پھر ہر طرح کے پھلوں کا رس چوس ۔ اور اپنے رب کی ہموار کی ہوئی راہوں میں چل ۔ اس مکھی کے اندر سے پینے کی ایک چیز نکلتی ہے جس کے مختلف رنگ ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1981 All issues

Printed page