Have Astronomers Found God
الرسالہ، مئی ۱۹۸۱، صفحہ ۴۱
۴۔ جدید علمِ کلام کا چوتھا اصول بات کو سادہ انداز میں کہنا ہے۔ سادہ انداز سے مراد حقیقت پسندی کا انداز ہے جس میں بات کو اس کے فطری ڈھنگ سے بیان کیا گیا ہو نہ کہ ادب کے تقاضوں کی بنا پر کسی قسم کے مصنوعی انداز میں۔
انسان کو خدا نے سادہ فطرت پر پیدا کیا ہے۔ اس لئے جب بات کو سادہ انداز میں کہا جائے تو گویا گول خانہ میں گول چیز رکھی گئی ۔ اس کے برعکس جب بات کو کسی قسم کے بناوٹی انداز میں کہا جائے تو یہ گول خانہ میں چوکھٹی چیز رکھنے کے ہم معنیٰ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سادہ انداز میں کہی ہوئی بات انسانی فطرت کو اپیل کرتی ہے ۔ وہ اس کے اندر داخل ہوتی چلی جاتی ہے۔ وہ اس کی پوری ہستی میں سما جاتی ہے۔ اس کے برعکس جب بات کو مصنوعی اور پیچیدہ انداز میں بیان کیا جاتا ہے تو وہ انسان کی ہستی میں نہیں سماتی، وہ اس کے اندر دن کا جز رنبننہتی ۔ وہ ادھر ادھر اٹھ کر رہ جاتی ہے۔
قدیم زمانہ میں ادبی اسلوب ساری دنیا میں رائج تھا۔ کوئی اپنی بات کو شاعری کے اسلوب میں بیان کرتا تھا اور کوئی صبح کے اسلوب میں، کوئی تمثیل کے اسلوب میں اپنی بات پیش کرتا تھا اور کوئی کہانی کے اسلوب میں۔ موجودہ زمانہ میں ان اسالیب کی اہمیت بہت گھٹ گئی ہے۔ اب برتر اسلوب وہ سمجھا جاتا ہے جس میں بات کو واقعہ نگاری اور حقیقت بیانی کے انداز میں بیان کیا گیا ہو۔ عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ اسلوب جدید سائنسی انقلاب کی دین ہے۔ اسی لئے اس کو سائنسی اسلوب کہا جاتا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اس اسلوب کا آغاز انسانی تاریخ میں پہلی بار قرآن نے کیا تھا۔
قرآن تاریخ کی پہلی معلوم کتاب ہے جس نے مصنوعی اسلوب کو چھوڑ کر فطری اسلوب میں بات کہنے کی بنیاد ڈالی۔ سائنسی اسلوب دراصل قرآنی اسلوب ہی کی ایک جدید شکل ہے۔ تاہم قرآن کے نزول کے سو برس بعد مسلمانوں کے درمیان قدیم منطق و فلسفہ کا رواج شروع ہو گیا۔ اس کے نتیجہ میں یہ ہوا کہ تقریباً تمام اسلامی علوم میں دوبارہ وہی مصنوعی انداز غالب آگیا جس کو قرآن نے ختم کیا تھا۔ لوگ اس کو کمال سمجھنے لگے کہ دین کی سادہ تعلیمات کو فنی وشگافیوں اور منطقی اصطلاحوں میں ڈھالیں اور اس کو منشور نظم یا منظوم نثر میں سجا کر پیش کریں۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہم دوبارہ قرآنی اسلوب کی طرف لوٹیں۔ آج کے انسان کے سامنے اسلام کی دعوت کو پیش کرنے کے لئے سائنسی اسلوب لازمی طور پر ضروری ہے۔ تاہم یہ سائنسی اسلوب خود قرآنی اسلوب ہی کا دوسرا نام ہے۔ سائنسی اسلوب کو اختیار کر کے ہم سادہ طور پر صرف قرآنی اسلوب کی طرف لوٹیں گے نہ کہ کوئی نئی چیز اختیار کریں گے۔ دار العلوم حیدر آباد کے سیمینار بعنوان ”دینی تعلیم اور عصر حاضر کے تقاضے “ کے موقع پر ۲۴ فروری ۱۹۸۱ء کو پڑھا گیا۔