Have Astronomers Found God
الرسالہ، مئی ۱۹۸۱، صفحہ ۴
اس میں لوگوں کے لئے شفاہے۔ اس واقعہ میں نشانی ہے ان لوگوں کے لئے جو دھیان دیتے ہیں (نحل)۔ شہد کی مکھی کا نظام ایک انتہائی جامع اور کامل قسم کا سماجی نظام ہے۔ اس میں وہ تمام اجزاء پائے جاتے ہیں جو انسان کے بنائے ہوئے سماجی اور تمدنی نظام میں ہوتے ہیں۔ مگر شہد کی مکھیوں کا نظام ان تمام خرابیوں سے یکسر خالی ہوتا ہے جس کا شکار انسان کے سماجی اور تمدنی نظام ہمیشہ ہوا کرتے ہیں۔ شہد کی مکھی اپنی بستی بسانے کے لئے ایک جگہ کا انتخاب کرتی ہے۔ وہاں وہ ایک مکمل شہر بساتی ہے۔ وہ ایک انتہائی پیچیدہ قسم کا کارخانہ قائم کرتی ہے۔ وہ اپنے کارخانہ میں سیکڑوں میل سے ضروری سامان حاصل کرکے لاتی ہے۔ ہزاروں مکھیاں بیک وقت اپنے اپنے مقررہ کام میں لگی ہوئی ہوتی ہیں۔ ان کی اس تنظیم اور اس جدوجہد کا آخری نتیجہ ایک قیمتی پیداوار (شہد) کی صورت میں برآمد ہوتا ہے جو اعلیٰ درجہ کی تیار غذا ہے اور اسی کے ساتھ انسانی امراض میں بہترین علاج بھی۔ شہد کی مکھیاں اتنا بڑا نظام چلاتی ہیں مگر وہ اپنی آباد کاری کے لئے کسی دوسرے کا گھر نہیں اجاڑتیں۔ وہ پھولوں کا رس لینے کے لئے پھولوں کو نہیں مسلتیں۔ ان کی اجتماعی جدوجہد میں کبھی باہمی ٹکراؤ کا واقعہ نہیں ہوتا ۔ وہ اپنی محنت سے حاصل کی ہوئی پیداوار کا ایک قطرہ بھی ضائع نہیں کرتیں اور نہ اس کو اپنی چیز سمجھ کر سب کا سب اپنے اوپر خرچ کر ڈالتی ہیں۔ وہ اس کا بڑا حصہ دوسروں کی ضرورت کے لئے وقف کر دیتی ہیں۔ شہد کی مکھیوں کی دنیا میں ہر کام ٹھیک اسی طرح انجام دیا جاتا ہے جس طرح اسے انجام دیا جانا چاہئے۔ شہد کی مکھی خدا کے حکم سے اس بات کا عملی مظاہرہ کر رہی ہے کہ انسان کو اپنی سماجی زندگی کا نظام کس طرح بنانا چاہئے۔ اسی طرح تمام خدائی احکام کی تمثیل کائنات میں قائم کردی گئی ہے (سجدہ کی تمثیل درخت کے سایہ کی صورت میں ، قابل اعتماد کردار کی تمثیل لوہے کی صورت میں ، تصادم کے بغیر سفر حیات کی تمثیل ستاروں کی اپنے اپنے مدار پر گردش کرنے کی صورت میں ، اتحاد کار کی تمثیل شہد کی مکھیوں کے چھتے کی صورت میں ، اپنے اور غیر کو یکساں فیض پہنچانے کی تمثیل سورج کی روشنی کی صورت میں، وغیرہ) توحید اور اطاعت الہی کی طرف بلانے کے لئے قرآن کا یہ انداز عین فطری ہے۔ وہ ٹھیک اسی کائناتی استدلال پر قائم ہے جس پر جدید انسان نے اپنے علم و عمل کی پوری بنیاد کھڑی کی ہے۔ اگر ہم اس کو مؤثر طور پر آج کے انسان کے سامنے رکھ سکیں تو یقیناً ان میں سے بہت سے لوگ اسلام کو اپنے دل کی آواز پائیں گے۔ انسان چاند کے گھٹنے اور بڑھنے سے اپنا مہینہ اور سال شمار کرتا ہے۔ وہ زمین اور سورج کی حرکت سے اپنی گھڑیوں کا وقت مقرر کرتا ہے۔ وہ اپنی مشینوں کو قدرت کے نمونوں پر بناتا ہے (کشتی کو مچھلی کے نمونہ پر، ہوائی جہاز کو چڑیا کے نمونہ پر، کیمرہ کو آنکھ کے نمونہ پر، وغیرہ) اسی طرح وہ کائناتی اخلاقیات کو بھی اپنے اخلاق کے لئے معیار قرار دے سکتا ہے۔ بشرطیکہ ہم اس کو صحیح طور پر اس کے سامنے پیش کر دیں۔ اگر وہ کائنات سے اپنا مادی معیار لے رہا ہے تو اسی کائنات سے وہ اپنا اخلاقی معیار کیوں نہیں لے سکتا۔