حقیقت کے مطابق
الرسالہ، مئی ۱۹۸۱، صفحہ ۴۳
حقیقت کے مطابق
اسلام کیا ہے، فطرت کے مطابق زندگی گزارنا۔ دنیا میں اس طرح رہنا جیسا کہ حقیقت کے اعتبار سے آدمی کو رہنا چاہئے۔ آدمی خود سے نہیں بن گیا۔ اس کو خدا نے بنایا ہے۔ اب حقیقت کے مطابق زندگی یہ ہے کہ آدمی خدا کی بڑائی کو مانے اور اس کا احسان مند ہو۔ آدمی کے اندر ڈر اور محبت کے جذبات ہیں۔ وہ کسی چیز پر اعتماد کرنا چاہتا ہے اور کسی چیز کو اپنی دوڑ دھوپ کا مرکز بناتا ہے۔ اب حقیقت کے مطابق زندگی یہ ہے کہ آدمی ان حیثیتوں سے خدا کو اپنا مرکز بنائے۔ کیوں کہ دوسری تمام چیزیں مخلوق ہیں، خدا کے سوا کسی کو کوئی اختیار حاصل نہیں۔
دنیا میں جتنے آدمی پیدا ہوئے یا پیدا ہوں گے سب کے باپ آدم ہیں، سب بالآخر ایک ہی ماں باپ کی اولاد ہیں۔ اس لئے حقیقت کے مطابق زندگی یہ ہے کہ ہر آدمی دوسرے کا خیر خواہ ہو، ہر ایک دوسرے کے ساتھ بھائیوں کا سا برتاؤ کرے۔ ہر آدمی کے اندر ضمیر ہے۔ یہ ضمیر انصاف کو پسند کرتا ہے اور ظلم اور بے انصافی کو نا پسند کرتا ہے۔ اب حقیقت کے مطابق زندگی یہ ہے کہ آدمی دوسروں کے درمیان اس طرح رہے کہ ہر آدمی دوسرے کا خیر خواہ ہو، ہر ایک دوسرے کے ساتھ انصاف کا معاملہ کرے۔ آدمی پر ایک روز موت آنی ہے۔ موت ہر آدمی سے وہ چیز چھین لیتی ہے جو دنیا میں اس کو حاصل تھی۔ اس لئے حقیقت کے مطابق زندگی یہ ہے کہ دنیا کی اونچ نیچ کو وقتی اور مصنوعی خیال کیا جائے۔ ہر آدمی کو یکساں طور پر خدا کا بندہ سمجھا جائے خواہ بظاہر وہ چھوٹا ہو یا بڑا۔ اسی طرح آدمی کے سامنے ایک حق آتا ہے وہ اس پوزیشن میں ہوتا ہے کہ اس کا انکار کر دے۔ مگر وہ سوچتا ہے کہ ایک دن بالآخر ایسا آنے والا ہے جب کہ میں حق کو حق اور باطل کو باطل ماننے پر مجبور ہوں گا۔ یہ سوچ کر وہ اس حق کو آج ہی مان لیتا ہے جس کو وہ کل ماننے پر مجبور ہوگا۔