تین سو کی تعداد، فیصلہ کن ہے
الرسالہ، مئی ۱۹۸۱، صفحہ ۴۴
تین سو کی تعداد، فیصلہ کن ہے
قریش میں ایک شخص جمیل بن معمر بھی تھا۔ اس کو باتیں پھیلانے سے بہت دل چسپی تھی، اس کو معلوم ہوا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کر لتو ہے تو اس نے بیت اللہ کے دروازہ پر کھڑے ہو کر بلند آواز سے کہا: الا ان ابن الخطاب قد صبا (سنو خطاب کا لڑکا بے دین ہو گیا) قریش اس وقت کعبہ کے گرد اپنی مجلسوں میں تھے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اس کا جواب دیا؛ کذب ولکنی قد اسلمت وشهدت ان لا الہ الا اللہ و محمد رسول اللہ (اس نے جھوٹ کہا۔ بلکہ میں نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں) اس کے بعد لوگ ان کے اوپر جھپٹ پڑے۔ وہ ان سے لڑتے رہے یہاں تک کہ سورج سر پر آ گیا۔ دونوں تھک کر بیٹھ گئے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا:
افعلوا ما بدا لكم فاحلفت بالله ان لو قد كنا جو تمھارے جی میں آئے کرو، میں خدا کی قسم کھاتا ہوں کہ اگر ہم ثلاث مائة رجل لقد تركنا ها لكم مسلمان تین سو ہو جائیں تو پھر اس سرزمین کو یا ہم تمھارے لئے او ترکتموها لنا (البدایہ والنہایہ، جلد ۳) چھوڑ دیں گے یا تم اس کو ہمارے لئے چھوڑ دو گے اسلام ان کے لئے طاقت بن گیا نبوت کے پانچویں سال مسلمانوں نے مکہ سے حبشہ کی طرف ہجرت کی۔ مکہ والوں کے مظالم سے تنگ آ کر تقریباً اسی آدمی مختلف ٹولیوں میں حبشہ گئے۔ ان کے سردار جعفر بن ابی طالب تھے۔ قریش نے اپنا ایک وفد بھیج کر کوشش کی کہ نجاشی ان مہاجرین کو ان کے حوالے کر دے۔ مگر شاہ حبشہ (نجاشی) نے اس سے انکار کر دیا۔ وہ مسلمانوں کی باتوں اور ان کے طرز عمل سے اتنا خوش ہوا کہ اس نے ان سے کہا: تم لوگ ہمارے ملک میں سیوم (مامون) ہو۔ جو تم کو برا کہے اس سے جرمانہ لیا جائے گا، جو تم کو برا کہے اس سے جرمانہ لیا جائے گا۔ میں پھر کہتا ہوں کہ جو تم کو برا کہے اس سے جرمانہ لیا جائے گا۔ یہ ہاتھی کے برابر سونا ملے تب بھی میں تم میں سے کسی پر زیادتی نہیں کروں گا۔ تم ہمارے ملک میں جب تک چاہے رہو۔ اس نے مسلمانوں کو کھانا اور کپڑا دیئے جانے کا حکم دیا۔ پھر اس نے پوچھا ”کیا تم لوگوں کو کوئی ستاتا ہے"، مسلمانوں نے کہا ہاں۔ نجاشی نے منادی کرائی کہ جس نے مسلمانوں میں سے کسی کو ستایا یا ستانے والا اس مسلمان کو چار درہم جرمانہ دے۔ پھر مسلمانوں سے پوچھا کیا یہ کافی ہے۔ انہوں نے کہا نہیں۔ اس کے بعد اس نے جرمانہ کی رقم دگنی کر دی ۔ ہجرت مدینہ کے بعد جب یہ مسلمان حبشہ سے واپس ہوئے تو نجاشی نے ان کو سواری اور زاد راہ دے کر رخصت کیا۔ موحد کے لئے دنیا میں سربلندی کا وعوہ ہے نبوت کے بعد تقریباً دس سال تک ابوطالب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سرپرست تھے۔ ابوطالب جب مرض الموت میں مبتلا ہوئے تو قریش کے سرداروں کی ایک جماعت ان کے گرد جمع ہوئی۔ ان میں ابو جہل بن ہشام، ابوسفیان بن حرب، عقبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، امیہ بن خلف وغیرہ تھے۔ ان لوگوں نے ابوطالب سے کہا: آپ کا ہمارے درمیان جو مقام ہے وہ آپ جانتے ہیں۔ اور آپ پر دہ وقت آ چکا ہے جو سب پر آتا ہے۔ آپ کے بھتیجے اور ہمارے درمیان