تین سو کی تعداد، فیصلہ کن ہے
الرسالہ، مئی ۱۹۸۱، صفحہ ۴۵
جو بات ہے اس کو آپ جانتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ آپ ان کی بارے میں ہم سے عہد لے لیں اور ہمارے بارے میں ان سے عہد لے لیں۔ تاکہ وہ ہم سے رک جائیں اور ہم ان سے رک جائیں۔ وہ ہم کو ہمارے دین پر چھوڑ دیں اور ہم ان کو ان کے دین پر چھوڑ دیں۔ ابو طالب نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بلایا اور کہا کہ اے میرے بھتیجے! یہ قوم کے سردار ہیں۔ یہاں آئے ہیں تاکہ تم کو کچھ قول دیں اور تم سے کچھ قول لیں۔ تم ان سے کیا چاہتے ہو۔ آپ نے فرمایا: کلمۃ واحدۃ تعطونها تملكون بها العرب و تم لوگ میری ایک بات مان لو۔ اس سے تم عرب کے مالک تدین لكم بها العجم (البدايه والنهايه) بن جاؤ گے اور عجم تمہارے مطیع ہو جائیں گے۔ ابوجہل نے کہا، تمھارے باپ کی قسم ہم دس بات کے لئے تیار ہیں۔ آپ نے فرمایا: "لا الہ الا اللہ کا اقرار کرو، اللہ کے سوا جن کی پرستش کرتے ہو ان کو نکال پھینکو۔ یہ سن کر انھوں نے ہاتھ پر ہاتھ مارا اور یہ کہتے ہوئے چلے گئے؛ کیا ہم تمام معبودوں کو چھوڑ کر ایک معبود کی پرستش کریں۔ یہ تو بڑی عجیب بات ہوگی۔ یہ شخص تم کو کچھ دینے والا نہیں۔ چلو اپنے دین پر قائم رہو یہاں تک کہ اللہ تمھارے اور اس کے درمیان کوئی فیصلہ کر دے۔ جاندار افراد ہوں تو تھوڑے بھی بہت ہیں ابو داؤد اور ترمذی نے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چار ساتھی بہترین ساتھی ہیں۔ دعوتی گروہ کے لئے چار سو کی تعداد بہترین تعداد ہے۔ بہترین للشکر چار ہزار کا شکر ہے۔ اور اگر بارہ ہزار آدمی ہوں تو وہ محض قلت کی وجہ سے کبھی مغلوب نہیں ہوسکتے۔ یعنی وہ ہاریں گے تو اس کی وجہ قلت نہیں ہوگی، کوئی اور ہوگی (خیر الصحابة اربعة وخير السرايا اربع مأة وخير الجيوش اربعة آلاف ولن يغلب اثنا عشر الفامن قلة ، رياض الصالحين ۹۵۸)
دشمن کے خلاف کامیاب کارروائی کے لئے پردہ داری ضروری ہے قریش نے معاہدہ حدیبیہ کے خلاف ورزی کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جہاد کی تیاری میں مصروف ہو گئے: امر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الناس بالجهاز و رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو سفر کی تیاری کا حکم امر اهلّه ان يجهزوه، فدخل ابو بكر على ابنته دیا اور اپنے اہل خانہ سے کہا کہ وہ آپ کا سامان سفر عائشة رضى الله عنها وهي تخترث بعض جھاز رسول درست کریں۔ پھر حضرت ابوبکرِ اپنی صاحب زادی حضرت اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فقال، اى بنيّة اامرکم عائشہ کے یہاں آئے اور وہ آپ کے سامانِ سفر کی تیاری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان تجهزوه میں مشغول تھیں۔ انھوں نے کہا اے میری بیٹی! کیا تم کورسول قالت نعم - قال فاين ترینہ يريد قالت واللهِ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سامانِ سفر تیار کرنے کا حکم دیا ہے لا ادرى حضرت عائشہ نے کہا ہاں۔ انھوں نے پوچھا تمھارا کیا خیال (سیرت ابن ہشام جلد ۴ صفحه (۱) ہے۔ آپ کہاں کے سفر کا ارادہ رکھتے ہیں۔ حضرت عائشہ نے کہا خدا کی قسم مجھے نہیں معلوم۔