They are just like Jesus and Moses
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۱، صفحہ ۲۴
کیا میں اللہ کے سوا کسی اور کو منصف بناؤں، حالانکہ اس نے تمھاری طرف واضح کتاب اتاری ہے۔ اور جن لوگوں کو ہم نے پہلے کتاب دی تھی وہ جانتے ہیں کہ یہ تیرے رب کی طرف سے اتاری گئی ہے واقعیت کے ساتھ۔ پس تم نہ ہو شک کرنے والوں میں۔ اور تمھارے رب کی بات پوری سچی ہے اور انصاف کی، کوئی بدلنے والا نہیں اس کی بات کو اور وہ سننے والا ، جاننے والا ہے۔ اور اگر تم لوگوں کی اکثریت کے کہنے پر چلو جو زمین میں ہیں تو وہ تم کو خدا کے راستہ سے بھٹکا دیں گے۔ وہ محض گمان کی پیروی کرتے ہیں اور قیاس آرائیاں کرتے ہیں۔ بے شک تمھار ارب خوب جانتا ہے ان کو جو ان کے راستہ سے بھٹکے ہوئے ہیں اور خوب جانتا ہے ان کو جو راہ پائے ہوئے ہیں قرآن میں ذبحہ کے احکام اترے اور یہ کہا گیا کہ مردہ جانور نہ کھاؤ، ذبیح کیا ہوا کھاؤ تو کچھ لوگوں نے کہا: مسلمانوں کا مذہب بھی عجیب ہے۔ وہ اپنے ہاتھ کا مارا ہوا جانور حلال سمجھتے ہیں اور جس کو اللہ نے مارا ہو اس کو حرام بتاتے ہیں۔ اس جملہ میں لفظی تک بندی کے سوا اور کوئی دلیل نہیں ہے۔ مگر بہت سے لوگ اس کو سن کر دھوکے میں آگئے اور اسلام کو شبہ کی نظر سے دیکھنے لگے۔ ایسا ہی ہمیشہ ہوتا ہے۔ ہر زمانہ میں ایسے لوگ کم ہوتے ہیں جو باتوں کو ان کی اصل حقیقت کے اعتبار سے سمجھتے ہوں۔ بیشتر لوگ الفاظ کے گورکھ دھندے میں گم رہتے ہیں۔ وہ خیالی باتوں کو حقیقی سمجھ لیتے ہیں، صرف اس لئے کہ ان کو خوبصورت الفاظ میں بیان کر دیا گیا ہے۔
مگر یہ دنیا ایسی دنیا ہے جہاں تمام بنیادی حقیقتوں کے بارے میں خدا کے واضح بیانات آچکے ہیں۔ اس لئے یہاں کسی کے لئے اس قسم کی بے راہی میں پڑنا قابل معافی نہیں ہوسکتا۔ خدا کا کلام ایک کھلی ہوئی کسوٹی ہے جس پر جانچ کر ہر آدمی معلوم کر سکتا ہے کہ اس کی بات محض ایک لفظی شعبدہ ہے یا کوئی واقعی حقیقت ہے۔ خدا نے ماضی، حال اور مستقبل کے تمام ضروری امور کی بابت سچا بیان دے دیا ہے۔ اس نے انسانی تعلقات کے تمام پہلوؤں کے بارے میں کامل انصاف کی راہ بتادی ہے۔ آدمی اگر فی الواقع سنجیدہ ہو تو اس کے لئے یہ جاننا کچھ بھی مشکل نہیں کہ حق کیا ہے اور ناحق کیا۔ اب اس کے بعد شبہ میں وہی پڑے گا جس کا حال یہ ہو کہ اس کی سوچ خدا کے کلام کے سوا دوسری چیزوں کے زیر اثر کام کرتی ہو۔ جو شخص اپنی سوچ کو خدائی حقیقتوں کے موافق بنالے اس کے لئے یہاں فکری بے راہ روی کا کوئی امکان نہیں۔
اس خدائی وضاحت کے بعد بھی اگر آدمی بھٹکتا ہے تو خدا کو اس کا حال اچھی طرح معلوم ہے۔ وہ خوب جانتا ہے کہ وہ کون ہے جس نے اپنی بڑائی قائم رکھنے کی خاطر اپنے سے باہر ظاہر ہونے والی سچائی کو کوئی اہمیت نہ دی۔ کون ہے جس کے تعصب نے اس کو اس قابل نہ رکھا کہ وہ بات کو سمجھ سکے کس نے سستی نمائش میں اپنی رغبت کی وجہ سے سچائی کی آواز پر دھیان نہیں دیا۔ کون ہے جو حسد کی نفسیات میں مبتلا ہونے کی وجہ سے حق سے نا آشنا رہا۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1981 All issues