They are just like Jesus and Moses
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۱، صفحہ ۶
تذکیر القرآن الانعام ۶ اور اسی طرح ہم نے شریر آدمیوں اور شریر جنوں کو ہر نبی کا دشمن بنا دیا۔ وہ ایک دوسرے کو پر فریب باتیں سکھاتے ہیں دھوکا دینے کے لئے۔ اور اگر تیرا رب چاہتا تو وہ ایسا نہ کر سکتے۔ پس تم انھیں چھوڑ دو کہ وہ جھوٹ باندھتے رہیں، اور ایسا اس لیے ہے کہ اس کی طرف ان لوگوں کے دل مائل ہوں جو آخرت پر یقین نہیں رکھتے۔ اور تاکہ وہ اس کو پسند کریں اور تاکہ وہ کمائی انھیں کرنی ہے وہ کر لیں ۱۳ - ۱۱۲ ابن جریر نے حضرت ابوذر سے نقل کیا ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں شریک ہوا - یہ ایک لمبی مجلس تھی۔ آپ نے فرمایا اے ابوذر، کیا تم نے نماز پڑھ لی۔ میں نے کہا نہیں اے خدا کے رسول۔ آپ نے فرمایا: اٹھو اور دو رکعت نماز پڑھو۔ وہ نماز پڑھ کر دوبارہ مجلس میں آکر بیٹھے تو آپ نے فرمایا: اے ابوذر، کیا تم نے جن وانس کے شیطانوں کے مقابلہ میں اللہ سے پناہ مانگی۔ میں نے کہا نہیں اے خدا کے رسول، کیا انسانوں میں بھی شیطان ہوتے ہیں۔ آپ نے فرمایا ہاں ، وہ شیاطین جن سے بھی زیادہ برے ہیں (نعم هم شرمن شياطين الجن، تفسیر ابن کثیر) یہاں شیاطین انس سے مراد وہ لوگ ہیں جو دعوت حق کو بے اعتبار ثابت کرنے کے لئے قائدانہ کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو خود ساختہ مذہب کی بنیاد پر عزت و مقبولیت کا مقام حاصل کئے ہوئے ہوتے ہیں۔ جب حق کی دعوت اپنی بے آمیز شکل میں اٹھتی ہے تو ان کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ ان کو برہنہ کر رہی ہے۔ ایسے لوگوں کے لئے سیدھا راستہ یہ تھا کہ وہ حق کی وضاحت کے بعد اس کو مان لیں مگر حق کے مقابلہ میں اپنا مقام ان کو زیادہ عزیز ہوتا ہے۔ اپنی حیثیت کو بچانے کے لئے وہ خود داعی اور اس کی دعوت کو مشتبہ ثابت کرنے میں لگ جاتے ہیں۔ اس مقصد کے لئے وہ خوش نما الفاظ کا سہارا لیتے ہیں۔ وہ داعی اور اس کی دعوت میں ایسے شوشے نکالتے ہیں جو اگرچہ بذات خود بے حقیقت ہوتے ہیں مگر بہت سے لوگ اس سے متاثر ہو کر اس کے بارے میں شبہ میں پڑ جاتے ہیں ۔ موجودہ دنیا میں جو امتحانی حالات پیدا کئے گئے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ یہاں صحیح بات کہنے والے کو بھی الفاظ مل جاتے ہیں اور غلط بات کہنے والے کو بھی۔ حق کا داعی اگر حق کو دلائل کی زبان میں بیان کر سکتا ہے تو اسی کے ساتھ باطل پرستوں کو بھی یہ موقع حاصل ہے کہ وہ حق کے خلاف کچھ ایسے خوش نما الفاظ بول سکیں جو لوگوں کو دلیل معلوم ہوں اور وہ اس سے متاثر ہو کر حق کا ساتھ دینا چھوڑ دیں۔ یہ صورت حال امتحان کی غرض سے ہے اس لئے وہ لازماً قیامت تک باقی رہے گی۔ اس دنیا میں بہرحال آدمی کو اس امتحان میں کھڑا ہونا ہے کہ وہ سچے دلائل اور بے بنیاد باتوں کے درمیان فرق کرے اور بے بنیاد باتوں کو رد کر کے سچے دلائل کو قبول کرلے۔ شیاطین انس اپنی ذہانت سے حق کے خلاف جو پر فریب شوشے نکالتے ہیں وہ انھیں لوگوں کو متاثر کرتے ہیں جو آخرت کے فکر سے خالی ہوں۔ آخرت کا اندیشہ آدمی کو انتہائی سنجیدہ بنا دیتا ہے اور جو شخص سنجیدہ ہو اس سے باتوں کی حقیقت کبھی چھپی نہیں رہ سکتی۔ مگر جو لوگ آخرت کے اندیشہ سے خالی ہوں وہ حق کے معاملہ میں سنجیدہ نہیں ہوتے، اسی لئے وہ شوشہ اور دلیل کا فرق بھی سمجھ نہیں پاتے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1981 All issues