موجودہ دنیا ناکافی
الرسالہ، جون ۱۹۸۱، صفحہ ۲
موجودہ دنیا ناکافی
گر سن ولوریا (Gerson Viloria) فلپائن کا ایک باشندہ ہے جس کی عمر ۳۳ سال ہے۔ وہ ایک ٹریژری میں کلرک تھا۔ اس نے لوگوں کی طرف سے فرضی دستخط کرکے بہت سے لوگوں کی رقم وصول کر لی۔ اس کا مقدمہ فلپائن کی ایک عدالت میں پیش ہوا۔ جج کا نام رومیو اسکاریل (Romeo M. Escareal) تھا۔ جج نے تفصیلی سماعت کے بعد گر سن ولوریا کو، معاملات میں مجرم پایا۔ قانون کے مطابق اس طرح کے ایک جرم میں آدمی کو ۱۰ سال قید بامشقت کی سزا ملنی چاہئے ۔ اس کے مطابق جج نے مجرم کو ۲۰۷ سال کی سزا دی ۔ اسی کے ساتھ اس نے مجرم پر ۲۵۴۴۵ ڈالر جرمانہ عائد کیا ۔ جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں سزا لائے قید میں اضافہ ہو جائے گا (ٹائمز آف انڈیا ۹ نومبر ۱۹۷۹) مجرم کی عمر ۳۳ سال ہو چکی ہے۔ اگر قبل از وقت، اس کا خاتمہ نہ ہو بلکہ وہ اپنی عمر طبعی کو پورا کر کے مرے تب بھی اس کی موت کے وقت اس کی سزا کی مدت میں کم از کم سو سال باقی رہ جائیں گے ۔ انسان کا ضمیر کسی عمل کا جو بدلہ یا کسی جرم کی جو سزا چاہتا ہے وہ موجودہ محدود دنیا میں ناممکن ہے۔ جو ہونا چاہئے اور جو ہو رہا ہے کے درمیان یہ تضاد بتاتا ہے کہ موجودہ دنیا نامکمل ہے۔ اس کی تکمیل کے لئے ایک اور دنیا ہونی چاہئے جہاں یہ تضاد ختم ہو جائے اور جو کچھ ہونا چاہئے وہی عملاً بھی ہونے لگے۔
اسی قسم کا ایک واقعہ تھائی لینڈ میں ہوا۔ تھائی لینڈ کی ایک عدالت میں ایک خاتون پولیس کا مقدمہ پیش ہوا ۔ اس کا نام مسٹرامساپ (Mrs. Phenphanchong Imsap) ہے۔ وہ سرحدی علاقہ پچابون (Petchabun) میں تعینات تھی۔ اس کا تعلق بیرونی افراد کے رجسٹریشن آفس سے تھا۔ اس نے رجسٹریشن کے نام پر لوگوں کو دھوکا دینا اور ان سے رشوت لینا شروع کیا۔ وہ سترہ سال تک حکومت کو اور اسی کے ساتھ لوگوں کو فریب دیتی رہی۔ اس مدت میں اس نے ناجائز طور پر تقریباً ۲۵ ہزار ڈالر کمایا۔ عدالت نے خاتون پولیس کو مجرم قرار دیتے ہوئے اس کو ایک ہزار ایک سال کی قید بامشقت کی سزا دی ۔ جج نے اپنے فیصلہ میں مزید لکھا کہ مجرم کو پیر دل پر رہائی یا رحم کی درخواست کی رعایت نہ دی جائے تاکہ دوسروں کو عبرت ہو (ٹائمز آف انڈیا ۲۱ مارچ ۱۹۸۱)
ظاہر ہے کہ خاتون پولیس عدالت کی سزا بھگتنے کے لئے مزید ایک ہزار ایک سال تک زندہ نہیں رہے گی ۔ وہ یقینی طور پر اس سے بہت پہلے مر جائے گی ۔ پھر جج نے کیوں اس کو اتنی لمبی سزا دی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آدمی کا جذبہ انصاف چاہتا ہے کہ جو شخص کوئی بڑا جرم کرے، اس کو اس کے جرم کے بقدر لمبی سزا دی جائے۔ مگر موجودہ دنیا میں کوئی جج عملاً ایسا کر نہیں پاتا۔ وہ مجرم کو ایک ہزار سال کی سزا دینا چاہتا ہے مگر آدمی کی محدود عمر اس کو ایسا کرنے نہیں دیتی۔ آدمی کے جرم کی عمر ایک ہزار سال ہے اور اس کے جینے کی عمر صرف پچاس سال آدمی کے عمل اور اس کی عمر دونوں میں یکسانیت نہیں۔ یہ صورت حال ایک اور وسیع تر دنیا کا تقاضا کرتی ہے جہاں آدمی زیادہ لمبی عمر پائے تاکہ وہ پورے انصاف کے ساتھ اپنے عمل کا انجام پاسکے۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1981 All issues