Al-Risala · June 1981 · page 16

مذہب کی اہمیت

الرسالہ، جون ۱۹۸۱، صفحہ ۱۶

مذہب کی اہمیت

کہا جاتا ہے کہ جدید تہذیب نے مذہب کو فرسودہ اور غیر ضروری ثابت کر دیا ہے۔

وہ کیا چیز ہے جو مغربی تہذیب نے انسانیت کو دی ہے۔ وہ ہیں جدید طرز کی سواریاں۔ نئے طرز کے مکانات، نئے قسم کے ذرائع مواصلات۔ نئے قسم کے لباس۔ مختصر یہ کہ دنیا میں زندگی گزارنے کے لئے نئے ساز سامان، جو پچھلے سامان کے مقابلے میں زیادہ آرام دہ، زیادہ خوش نما اور زیادہ سریع العمل ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اس قسم کے سامان کا خدا اور مذہب پر عقیدہ رکھنے یا نہ رکھنے کے مسئلے سے کیا تعلق کیا کسی کے پاس جدید طرز کی رہائش گاہ اور موٹر کار ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس کے لئے خدا کا وجود بے معنی ہو گیا۔ کیا تار اور ٹیلی فون کے ذریعہ خبر رسانی سے وحی والہام کے عقیدے کی تردید ہو جاتی ہے۔ کیا ہوائی جہاز اور راکٹ کے ذریعہ فضا میں اڑنے کا مطلب یہ ہے کہ آخرت کا اس کائنات میں کہیں وجود نہیں ہے۔ کیا لذیذ کھانے، خوش نما لباس اور اعلیٰ فرنیچر کے وجود میں آنے کے بعد جنت و وزخ کو ماننے کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ کیا جدید عورتوں کے اندر یہ صلاحیت کہ وہ ٹائپ رائٹر کے کی بورڈ پر اپنی انگلیاں تیزی سے چلا سکتی ہیں یہ ثابت کرتا ہے کہ الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ کی آیت منسوخ ہو گئی۔ کیا اسمبلی اور پارلیمنٹ کی شاندار عمارتوں میں بیٹھ کر کچھ لوگوں کا قانون سازی کرنا یہ ثابت کرتا ہے کہ شریعت کا قانون بے معنی ہو گیا ہے۔ نئے ساز و سامان اور نئے ذرائع دو وسائل کی اہمیت و افادیت کو تسلیم کرتے ہوئے ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ان کا مذہب کی صداقتوں کی تائید یا تردید سے کیا تعلق ہے ۔

مذہب کا تعلق قدروں (Values) سے ہے نہ کہ تمدنی مظاہر سے۔ تمدنی مظاہر بدلتے رہتے ہیں، مگر زندگی کی قدروں میں کبھی تبدیلی نہیں ہوتی۔ جدید طرز کی تیز رفتار سواریوں نے قدیم طرز کی سست رفتار گاڑیوں کو فرسودہ قرار دے دیا ہے۔ مگر اس مسئلہ کی اہمیت بدستور اپنی جگہ قائم ہے کہ آدمی سواریوں کو بنائے اور استعمال کرنے میں کن اخلاقی اصولوں کا لحاظ کرے۔ جدید مواصلاتی ذرائع نے قدیم طرز کے پیغام رسانی کے طریقوں کو بے فائدہ ثابت کر دیا ہے۔ مگر اس سوال کی اہمیت میں اب بھی کوئی فرق نہیں ہوا کہ ان مواصلات کو جھوٹ کی اشاعت کے لئے استعمال کیا جائے یا سچ کی اشاعت کے لئے۔

پارلیمنٹ کے ممبران خواہ پیدل چل کر پارلیمنٹ ہاؤس پہنچیں یا ہوائی جہازوں پر اڑ کر آئیں، اس اصول کی اہمیت بدستور باقی رہے گی کہ ان کی قانون سازی کا کام اسی خدائی قانون کی مطابقت میں ہونا چاہئے جس پر ساری کائنات کا نظام چل رہا ہے۔ عدالت کے دفاتر خواہ جھونپڑی میں ہوں یا کسی عالی شان عمارت میں، یہ معیار یکساں طور پر باقی رہے گا کہ عدالتوں کو اس طرح کام کرنا چاہئے کہ کوئی شخص اپنا جائز حق لینے سے محروم نہ رہے اور نہ کوئی شخص اپنے جرم کی سزا پانے سے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1981 All issues

Printed page