زبان جنت بھی ہے اور جہنم بھی
الرسالہ، جون ۱۹۸۱، صفحہ ۱۷
زبان جنت بھی ہے اور جہنم بھی
عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ عن النبی صلی ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ اللہ علیہ وسلم قال : ان العبد لیتکلم بالکلمة وسلم نے فرمایا۔ بندہ اللہ کی رضا کی ایک بات کہتا ہے من رضوان اللہ تعالیٰ ما یلقي لہا بالا یرفعہ اور اس کو کوئی اہمیت نہیں دیتا مگر اس کی وجہ سے اللہ بہا درجات ، و ان العبد لیتکلم بالکلمة اللہ اس کے درجات بہت بلند کر دیتا ہے۔ اسی طرح من سخط اللہ تعالیٰ لا یلقی لہا بالا یہوی بندہ اللہ کی ناراضگی کی ایک بات کہتا ہے اور اس بھا فی جھنم (بخاری، کتاب الرقاق) کو کوئی اہمیت نہیں دیتا مگر اس کی وجہ سے وہ جہنم میں جا گرتا ہے۔
ایک معاملہ میں دو قسم کے کلام کی ایک مثال وہ ہے جو غزوہ بنی مصطلق (۶ھ) کے موقع پر پیش آئی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اس سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھیں۔ ایک اتفاقی سبب سے وہ قافلہ سے بچھڑ گئیں اور بعد کو صفوان بن معطل کے ساتھ مدینہ آئیں۔ اس طرح کے واقعات قدیم صحرائی زندگی میں غیر معمولی نہ تھے۔ مگر اس سادہ سے واقعہ کو عبداللہ بن ابی نے، جو رسول اللہ کو بدنام کرنے کے لئے موقع کی تلاش میں رہتا تھا، غلط رنگ دیا اور حضرت عائشہ کو صفوان کے ساتھ ملوث کر کے آپ کی عزت و عصمت پر حملے کئے۔ قرآن میں ہے کہ اس کی وجہ سے عبداللہ بن ابی عذاب عظیم کا مستحق ہو گیا (نور ۱۱) اس واقعہ کی بے ضرر توجیہ بھی ہو سکتی تھی۔ مگر اس نے اس واقعہ سے افک (جھوٹ) کی غذا لی۔ اس نے کہا: ”عائشہ رض کا قافلہ سے بچھڑنا اور پھر ایک غیر مرد کے اونٹ میں بیٹھ کر واپس آنا محض اتفاقیہ نہیں ہو سکتا“ اس قسم کی کوئی بات جو کسی پاک دامن خاتون کے کردار کو مشتبہ کرے اللہ کی نظر میں جرم عظیم کی حیثیت رکھتی ہے۔ ایسا ایک جملہ بھی آدمی کو جہنم میں گرا دینے کے لئے کافی ہے۔
ایسے مواقع پر صحیح اسلامی طریقہ یہ ہے کہ آدمی اس سے ظن خیر کی غذا لے۔ وہ اپنی آبرو پر دوسرے کی آبرو کو قیاس کرے۔ اس کی ایک مثال حضرت ابو ایوب (خالد بن زید انصاری) کا واقعہ ہے۔ جب یہ قصہ پھیلا تو ان کی بیوی نے کہا: اے ابو ایوب، کیا آپ نے نہیں سنا کہ عائشہ کے بارے میں لوگ کیا کہہ رہے ہیں۔ انھوں نے کہا ہاں۔ مگر وہ جھوٹ ہے۔ اے ام ایوب، کیا تم ایسا کروگی۔ انھوں نے کہا خدا کی قسم نہیں، میں کبھی ایسا نہیں کر سکتی۔ ابو ایوب انصاری نے کہا: پھر عائشہ خدا کی قسم تم سے بہتر ہیں (ان ابا ایوب قالت له امرأته ام ایوب - یا ابا ایوب ، الا تسمع ما یقول الناس فی عائشة - قال بلی و ذلك الكذب - اکنت يا ام ایوب
‹ Previous page Next page › Contents of June 1981 All issues