Al-Risala · January 1981 · page 26

شکایت کے باوجود

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۱، صفحہ ۲۶

الا ظالم (زاد المعاد، جلد اول)

پر رہے گی ۔ ظالم سے سوا کوئی بھی تم سے اس کو نہیں چھینے گا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس سنت سے معلوم ہوتا ہے کہ حقوق کی ادائیگی اور امانتوں کی واپسی کے معاملہ میں مسلمانوں کو اتنا زیادہ پابند ہونا چاہئے کہ صاحب حق کی طرف سے تلخی کا مظاہرہ ہو تب بھی جس کا حق ہے اس کو اس کا حق پورا پورا ادا کیا جائے ۔ ادائیگی حقوق کے کسی حال میں بھی تجاوز نہ کیا جائے خواہ وہ اپنی طبیعت کے کتنا ہی خلاف ہو۔

دنیا پرست لوگوں کا یہ طریقہ ہے کہ جب ان کو کسی قسم کا اقتدار ملتا ہے تو سب سے پہلے وہ اس بات کی کوشش کرتے ہیں کہ اپنے سابق مخالفین کو سزا دیں اور ان کو ان کے منصب سے ہٹا کر اپنے عقیدت مندوں کو تمام مناصب پر بٹھا دیں ۔ ہر صاحب اقتدار، موافق اور مخالف کی اصطلاحوں میں سوچتا ہے ۔ موافقین کو اٹھانا اور مخالفین کو کچلنا اس کی پالیسی کا سب سے اہم جزو ہوتا ہے۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عرب میں اقتدار حاصل ہوا تو آپ نے اس کے بالکل برعکس معاملہ کیا۔ آپ نے معاملات کو " موافق " اور " مخالف " کے اعتبار سے نہیں دیکھا بلکہ حق پسندی اور امانت داری کے لحاظ سے دیکھا۔ اور تمام شکایتی باتوں کو نظر انداز کر کے ہر ایک کے ساتھ وہی معاملہ کیا جو رحمت اور عدل کا تقاضا تھا۔

جب کسی ملک میں کوئی نیا انقلاب آتا ہے اور اقتدار بدلتا ہے تو قدیم نظام کے تحت رایج شدہ بہت سی چیزیں ہوتی ہیں جن کے متعلق فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ کیا کیا جائے ۔ نئے حکمراں اگر یہ کریں کہ ایک طرف سے تمام پرانی چیزوں کو بدلنا شروع کر دیں تو پھر غیر ضروری مسائل ابھر کر دوبارہ وہی مشکلات پیدا کر دیں گے جو انقلاب سے پہلے تھیں ۔ انقلاب کے اصل مقاصد دھرے رہ جائیں گے اور نئے نئے مسائل میں ساری قوت صرف ہونے لگے گی جو کبھی حل نہ ہوں گے ۔ وہ سماجی رواج جو صدیوں میں بنیں ان کی جڑیں اتنی گہری ہوتی ہیں کہ ان کو چند دن میں بدلنا ممکن نہیں ہوتا۔ مگر جن کے ہاتھ میں اقتدار آتا ہے وہ اکثر اس غلط فہمی میں پڑ جاتے ہیں کہ وہ ہر چیز کو بدلنے کی طاقت رکھتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ شوق انقلاب میں وہ اپنے آپ کو ایسی چیزوں میں الجھالیتے ہیں جو بالآخر ان کو بھی کھا جائیں اور ان کے انقلاب کو بھی۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مذکورہ سنت سے معلوم ہوتا ہے کہ اس معاملے میں نئے حکمراں کو اصولی مسئلہ اور رواجی مسئلہ میں فرق کرنا چاہئے ۔ جو مسائل خالص اصولی نوعیت کے ہیں ان میں قطعا مصلحت نہ کی جائے ۔ مگر رواجی نوعیت کے مسائل میں صرف نظر کرنے کی پالیسی اختیار کی جائے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ کو بتوں سے پاک کرنے میں ایک دن کی تاخیر بھی نہیں کی مگر کعبہ کی کلید برداری کے معاملہ میں جو رواج پہلے سے چلا آ رہا تھا اسی کو برقرار رکھا۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1981 All issues

Printed page