ہر چیز میں سبق ہے
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۱، صفحہ ۲۷
ہر چیز میں سبق ہے
خواجہ حسن نظامی (۱۹۵۵ء ۔ کا ایک مضمون ہے "مچھر کی کہانی"۔ خواجہ صاحب نے مچھر سے شکایت کی کہ تم اتنا کیوں پریشان کر رہے ہو۔ ہم کو سونے کیوں نہیں دیتے۔ مچھر نے جواب دیا: "سونے اور ہمیشہ سونے کا موقع ابھی نہیں آیا ہے۔ جب آئے گا تو بے فکر ہو کر سونا۔ ابھی تو ہوشیار رہنے اور کچھ کام کرنے کا وقت ہے"۔ اگر نصیحت لینے کا ذہن ہو تو مچھر کی بھنبھناہٹ میں بھی آدمی کو زندگی کا پیغام مل جاتا ہے۔ اور اگر نصیحت لینے کا ذہن نہ ہو تو بم کے دھماکے اور ٹینکوں کی گڑگڑاہٹ بھی جمود کو توڑنے کے لئے ناکافی ہیں۔ ایسے لوگوں کو قیامت کا طوفان ہی بیدار کر سکتا ہے۔ مگر افسوس کہ قیامت کے طوفان سے بیدار ہونے کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ وہ بدلہ پانے کا وقت ہو گا نہ کہ عمل کرنے کا۔ قرآن میں کہا گیا ہے کہ جتنی دہ ہے جو اللہ کے پاس قلب سلیم (شعراء (۸۹) لے کر آئے۔ حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ اللہ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے اس کو دین کی سمجھ دے دیتا ہے (من يرد الله به خيرا يفقهه فى الدين) اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کی سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ آدمی کا ذہن کھلا ہوا ہو۔ وہ حق کو اس کی اصلی شکل میں دیکھ سکے۔ وہ نفسیاتی پیچیدگیوں سے آزاد ہو کر رائے قائم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ ایسے آدمی کے سامنے جب کوئی سچائی یا کوئی سبق کی بات آتی ہے تو اس کو سمجھنے میں اسے دیر نہیں لگتی۔ وہ اس کو فوراً اپنالیتا ہے اور اپنی زندگی میں اس کو شامل کر لیتا ہے۔ دنیا میں ہر طرف اللہ کی نشانیاں بکھری ہوئی ہیں، کہیں جمادات خاموش زبان میں کسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ کہیں "مچھر" اپنی زبان میں کوئی پیغام دیتا ہے۔ کہیں انسانوں کے درمیان کوئی واقعہ ہوتا ہے اور اس میں ایک چھپا ہوا سبق موجود ہوتا ہے۔ کبھی کوئی اللہ کا بندہ کھلی ہوئی نصیحت کی زبان میں کسی امر حق کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ ان تمام مواقع پر وہی شخص سچائی کو پائے گا جس نے اپنا سینہ سچائی کے لئے کھلا رکھا ہو۔ اگر آدمی کے اندر سبق لینے اور بات کو پکڑنے کا مزاج نہ ہو تو کوئی بھی چیز اسے فائدہ نہیں دے سکتی۔ کھلے ذہن کا آدمی "مچھر" سے بھی سبق لے سکتا ہے۔ اور جس نے اپنے ذہن کی کھڑکیاں بند کر لی ہوں اس کے لئے خدا کی کتاب اور رسول کا کلام بھی ہدایت کو پانے کے لئے ناکافی ہے ۔ سب سے بڑی چیز سبق لینے کا مزاج ہے۔ جس شخص کے اندر یہ مزاج پیدا ہو جائے اس کے لئے خدا کی ساری دنیا ایک زندہ کتاب بن جائے گی۔ اور جو اس مزاج سے محروم ہو وہ ایک قسم کا جانور ہے جو سب کچھ دیکھنے اور سننے کے بعد بھی نہیں جانتا کہ کیا دیکھا اور کیا سنا۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1981 All issues