Al-Risala · June 1981 · page 106

زبان جنت بھی ہے اور جہنم بھی

الرسالہ، جون ۱۹۸۱، صفحہ ۱۰۶

تذکیر القرآن الاعراف ، فرعون نے کہا، ہم لوگ موسیٰ پر ایمان لے آئے قبل اس کے کہ میں تمہیں اجازت دوں۔ یقیناً یہ ایک سازش ہے جو تم لوگوں نے شہر میں اس غرض سے کی ہے کہ تم اس کے باشندوں کو یہاں سے نکال دو، تو تم بہت جلد جان لو گے۔ میں تمھارے ہاتھ اور پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹوں گا پھر تم سب کو سولی پر چڑھا دوں گا۔ انھوں نے کہا، ہم کو اپنے رب ہی کی طرف لوٹنا ہے۔ تو تم کو صرف اس بات کی سزا دینا چاہتا ہے کہ ہمارے رب کی نشانیاں جب ہمارے سامنے آئیں تو ہم ان پر ایمان لے آئے۔ اے رب، ہم پر صبر انڈیل دے اور ہم کو وفات دے اسلام پر۔ ۱۲۶ - ۱۲۳ حق کے لئے جان قربان کرنا حق کے حق ہونے کی آخری گواہی دینا ہے۔ جادوگروں کو خدا کی مدد سے اس کی توفیق حاصل ہوئی۔ جادوگروں نے اپنے آپ کو سخت ترین سزا کے لئے پیش کر کے یہ ثابت کر دیا کہ ان کا حضرت موسیٰ پر ایمان لانا کوئی حیلہ اور سازش کا معاملہ نہیں، یہ سچے اعتراف حق کا معاملہ ہے۔ مگر جادوگروں کا سب سے بڑا عمل فرعون کی متکبرانہ نفسیات کے لئے سب سے بڑا تازیانہ تھا۔ انھوں نے فرعون کے مقابلہ میں موسیٰ کا ساتھ دے کر فرعون کو ساری قوم کے سامنے رسوا کر دیا تھا۔ چنانچہ فرعون ان کے خلاف غصہ سے بھر گیا۔ اس نے جادوگروں کے ساتھ اسی ظالمانہ کارروائی کا فیصلہ کیا جو ہر وہ متکبر شخص کرتا ہے جس کو زمین پر کسی قسم کا اختیار حاصل ہو جائے۔ جادوگر بھی دلیل کے میدان میں ہارے اور فرعون بھی۔ مگر جادوگر اپنی شکست کا اعتراف کر کے خدا کی ابدی نعمتوں کے مستحق بن گئے اور فرعون نے اس کو اپنی عزت کا مسئلہ بنا لیا۔ اس کے حصہ میں صرف یہ آیا کہ اپنی جھوٹی انانیت کی تسکین کے لئے دنیا میں وہ حق پرستوں پر ظلم کرے اور آخرت میں خدا کے ابدی عذاب میں ڈال دیا جائے۔

فرعون نے موسیٰ کی دعوت قبول کرنے یا نہ کرنے کو اپنی "اجازت" کا مسئلہ سمجھا۔ اور جادوگروں نے "نشانی" کا۔ متکبر آدمی کا مزاج ہمیشہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی مرضی کو سب سے زیادہ اہم سمجھتا ہے نہ کہ دلیل اور ثبوت کو۔ ایسے لوگ کبھی حق کو قبول کرنے کی توفیق نہیں پاتے۔

اس نازک ترین موقع پر جادوگروں نے جو کامل استقامت دکھائی وہ سراسر خدا کی مدد سے تھی اور ان کی زبان سے جو دعا نکلی وہ بھی تمام تر الہامی دعا تھی۔ جب کوئی بندہ اپنے آپ کو ہمہ تن خدا کے حوالے کر دیتا ہے تو اس وقت وہ خدا کے اتنا قریب ہو جاتا ہے کہ اس کو خدا کا خصوصی فیضان پہنچنے لگتا ہے۔ اس وقت اس کی زبان سے، ایسے کلمات نکلتے ہیں جو خدا کے القا کئے ہوئے ہوتے ہیں۔ اس وقت وہ وہی دعا کرتا ہے جس کے متعلق اس کا خدا پہلے ہی فیصلہ کر چکا ہوتا ہے کہ وہ اس کے لئے قبول کر لی گئی ہے۔

جادوگروں کا یہ کہنا کہ خدایا ہمارے اوپر صبر انڈیل دے اور ہماری موت آئے تو اسلام پر آئے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہنا ہے کہ ہم نے اپنے بس بھر اپنے آپ کو تیرے حوالے کر دیا ہے۔ اب جو کچھ ہمارے بس سے باہر ہے اس کے واسطے تو ہمارے لئے کافی ہوجا۔ جب کبھی کوئی بندہ دین کی راہ میں دل سے یہ دعا کرتا ہے تو خدایقیناً اس کی مشکلات میں اس کے لئے کافی ہو جاتا ہے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1981 All issues

Printed page