Al-Risala · June 1981 · page 30

زبان جنت بھی ہے اور جہنم بھی

الرسالہ، جون ۱۹۸۱، صفحہ ۳۰

تذکیر القرآن الاعراف ۷ اور جادو گر فرعون کے پاس آئے۔ انھوں نے کہا، ہم کو انعام تو ضرور ملے گا اگر ہم غالب رہے۔ فرعون نے کہا، ہاں اور یقیناً تم ہمارے مقربین میں داخل ہو گے۔ جادوگروں نے کہا، یا تو تم ڈالو یا ہم ڈالنے والے بنتے ہیں۔ موسیٰ نے کہا۔ تم ہی ڈالو۔ پھر جب انھوں نے ڈالا تو لوگوں کی آنکھوں پر جادو کر دیا اور ان پر دہشت طاری کر دی اور بہت بڑا کرتب دکھایا، اور ہم نے موسیٰ کو حکم بھیجا کہ اپنا عصا ڈال دو۔ تو اچانک وہ نگلنے لگا اس کو جو انھوں نے گھڑا تھا۔ پس حق ظاہر ہو گیا اور جو کچھ انھوں نے بنایا تھا باطل ہو کر رہ گیا۔ پس وہ لوگ وہیں ہار گئے اور ذلیل ہو کر رہے۔ اور جادو گر سجدہ میں گر پڑے۔ انھوں نے کہا، ہم ایمان لائے رب العالمین پر جو رب ہے موسیٰ اور ہارون کا ۱۲۲ ۔ ۱۱۳ کسی ماحول میں جس چیز کی اہمیت لوگوں کے ذہنوں پر چھائی ہوئی ہو اسی نسبت سے ان کے پیغمبر کو معجزہ دیا جاتا ہے۔ قدیم مصر میں جادو کا بہت زور تھا اس لئے حضرت موسیٰ کو اسی نوعیت کا معجزہ دیا گیا۔

فرعون کے طے کردہ پروگرام کے مطابق مصریوں کے قومی تہوار (یوم الزینہ) کے موقع پر ان کے تمام بڑے بڑے جادو گر جمع ہوئے۔ جادو گروں نے کہا کہ پہلے ہم اپنا کر تب سامنے لائیں یا تم جو کچھ دکھانا چاہتے ہو دکھاؤ گے۔ حضرت موسیٰ نے کہا پہلے تم اپنا کر تب سامنے لاؤ۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر اپنے دشمن کے خلاف اقدام کرنے میں کبھی پہل نہیں کرتا۔ وہ آخر وقت تک دشمن کو موقع دیتا ہے کہ وہ خود پہل کرے۔ فریق مخالف جب اس طرح پہل کی ذمہ داری اپنے اوپر لے چکا ہوتا ہے اس وقت پیغمبر اپنی پوری قوت کو استعمال کر کے اسے زیر کر دیتا ہے۔ یہ نظریاتی دعوت کے معاملہ میں پیغمبر کا طریقہ اقدام ہوتا ہے اور عملی ٹکراؤ کے معاملہ میں دفاع کا۔

مصر میں حضرت موسیٰ کی دعوت تقریباً چالیس سال تک جاری رہی ہے۔ جادو گروں سے مقابلہ کا واقعہ اس کے آخری زمانہ کا ہے۔ اس سے قیاس کیا جا سکتا ہے کہ جادو گر حضرت موسیٰ کی دعوت سے آشنا رہے ہوں گے۔ تاہم ابھی تک ان کی آنکھ کا پردہ نہیں ہٹا تھا۔ جب انھوں نے اپنے مخصوص فن کے میدان میں حضرت موسیٰ کی برتری دیکھی تو حجابات اٹھ گئے ۔ ان کو نظر آ گیا کہ یہ جادو گری کا معاملہ نہیں بلکہ خدائی پیغمبری کا معاملہ ہے۔ وہ بے اختیار ہو کر خدا کے سامنے گر پڑے۔

جادو گروں نے اپنی لاٹھیاں اور رسیاں پھینکیں تو خیال بندی کی وجہ سے وہ لوگوں کو چلتا پھرتا سانپ نظر آنے لگیں۔ مگر جب حضرت موسیٰ کا عصا سانپ بن کر میدان میں گھوما تو جادو گروں کی ہر لاٹھی اور رسی صرف لاٹھی اور رسی ہو کر رہ گئی۔ جادو گر جادو کے حدود کو جانتے تھے ۔ اس واقعہ میں جادو گروں کو نظر آگیا کہ انسانی تدبیریں اپنے آخری کمال پر پہنچ کر بھی کتنی حقیر ہیں اور خدا کتنا عظیم اور کتنا زیادہ طاقت ور ہے۔ اس کے بعد فرعون ان کو اپنے تمام اقتدار کے باوجود بے وقعت نظر آنے لگا۔ وہی جادو گر جو خدا کی عظمت کو دیکھنے سے پہلے فرعون سے انعام کے طالب تھے اب انھوں نے فرعون کی طرف سے بدترین سزاؤں کی دھمکی کو بھی اس طرح نظر انداز کر دیا جیسے اس کی کوئی حقیقت ہی نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1981 All issues

Printed page