Al-Risala · June 1981 · page 33

تبلیغ کی طاقت

الرسالہ، جون ۱۹۸۱، صفحہ ۳۳

کا پر امن عمل اپنی فطری رفتار سے جاری رہا۔ اں تک کہ بالآخر یہ تمام علاقے عرب علاقے بن گئے اور سب کی زبان عربی زبان ہوگئی۔

اسلام کی اصل طاقت تلوار نہیں ، اسلام کی اصل طاقت تبلیغ ہے۔ اس سلسلے میں یہاں ماسٹر "تاراسنگھ (۱۹۶۷ - ۱۸۸۵) کا ایک بیان نقل کیا جاتا ہے :

جب کوئی مجھ سے یہ کہتا ہے کہ حضرت محمد صاحب نے تلوار کے زور سے اپنا مذہب پھیلایا تھا تو مجھے اس شخص کی نا سمجھی پر ہنسی آتی ہے۔ اس اعتراض کرنے والے کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس اعتراض سے تو وہ محمد صاحب کو غیبی طاقت کا مالک تسلیم کر رہا ہے ، اگر ایک تنہا محمد دنیا کے مقابلہ میں تلوار سے کامیاب ہوتا ہے تو یقیناً یہ ایک معجزہ ہے۔ اپنی سچائی اور ایمان داری کی مدد سے کامیابی حاصل کرنا اتنا بڑا معجزہ نہیں جتنا کہ تلوار کے زور سے مذہب پھیلانے میں کامیابی حاصل کرنا۔

فرض کیا جائے کہ محمد نے پہلا، پھر دوسرا ، پھر تیسرا ، پھر چوتھا مسلمان تلوار کے زور سے ہی بنایا تھا تو یہ اشخاص جبرا مسلمان کئے جانے کی وجہ سے محمد کے دشمن ہو گئے ہوں گے۔ ایک ایک کو تو تلوار کے زور سے محمد صاحب مسلمان کر سکتے تھے۔ لیکن جب وہ تین چار اکٹھے ہوئے تھے تو انھوں نے کیوں محمد صاحب سے بدلہ نہ لیا۔ اگر اس بات کا جواب یہ دیا جائے کہ وہ مسلمان تو تلوار کے زور سے ہی ہوئے تھے لیکن بعد میں وہ محمد صاحب پر صدق دل سے ایمان لے آئے تھے، تو یہ ایک فضول سی بات ہے جسے کوئی ماننے کو تیار نہ ہوگا کہ جس پر جبر کیا جائے وہی بعد میں دوست بن جائے۔ ایسی بھدی دلیل کے معنی ہیں کہ کوئی ایک شخص جو جسمانی طور پر دوسروں سے طاقت ور ہے ایک ایک کو فتح کرنے کے بعد اپنا مذہب پھیلا سکتا ہے۔ یہ ایک ایسی مہمل دلیل ہے کہ اس پر مزید بحث کی ضرورت نہیں۔

مسلمانوں نے بعض موقعوں پر مذہب کی مدد کے لئے تلوار کا استعمال ضرور کیا تھا لیکن اس بات کی ذمہ داری حضرت محمد صاحب پر نہیں آسکتی۔ جو شخص مذہب کے نام پر تلوار کی جنگ میں شریک ہوتا ہے اور اس طرح اپنے آپ کو خطرہ میں ڈالتا ہے اس کا ایمان بھی کافی حد تک مضبوط ہوتا ہے۔ یقین کی پختگی کے بغیر کوئی شخص اپنے آپ کو جنگ کے خطرہ میں نہیں ڈالے گا۔ اس لئے تلوار چلانے کے لئے بھی تو پہلے یقین کرنے والے مضبوط دلوں کی ضرورت ہے جو صرف وعظ سے پیدا ہو سکتے ہیں یہ تلوار کھی وعظ سے پیدا ہوئے یقین کے بغیر نہیں اٹھائی جاسکتی (رسول نمبر رسالہ مولوی، دہلی)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مصر ایک غیر مسلم ملک تھا۔ وہاں عیسائی اور مشرک قومیں بستی تھیں۔ وہاں کی زبان قبطی تھی۔ اس کے بعد مصر کو مسلمانوں نے فتح کیا۔ مصر نہ صرف سیاسی اعتبار سے فتح ہوا بلکہ سارا مصر

‹ Previous page Next page › Contents of June 1981 All issues

Printed page