Al-Risala · June 1981 · page 38

کوئی دنیا کما رہا ہے کوئی آخرت

الرسالہ، جون ۱۹۸۱، صفحہ ۳۸

کوئی دنیا کما رہا ہے کوئی آخرت

ایک آدمی وہ ہے جس کا مقصود پیسہ ہے۔ اس نے کوئی ایسا کام پکڑ لیا ہے جس سے پیسہ ملتا ہے اور اپنے پورے وقت اور اپنی تمام طاقتوں کے ساتھ اس میں مصروف ہے۔ جب اس کی سرگرمیوں کا نتیجہ پیسہ کی صورت میں اس کی طرف لوٹتا ہے تو وہ خوش ہوتا ہے اور جیب پیسہ نہ ملے تو وہ تردّد میں پڑ جاتا ہے۔ دوسرا آدمی وہ ہے جو عزت و شہرت کا طالب ہے۔ وہ ہر اس کام کی طرف دوڑ پڑتا ہے جس میں اس کا نام اونچا ہو اور جس میں شرکت کی وجہ سے ہر طرف اس کا چرچا ہونے لگے۔ اعزاز اور مقبولیت کے مقام پر کھڑا ہو کر اس کے نفس کو لذت ملتی ہے اور اگر اس کو اعزاز اور مقبولیت کے مقام پر کھڑا ہونے کا موقع نہ ملے تو اس کو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے اس کی دنیا کھو گئی ہے۔ تیسرا آدمی وہ ہے جو اقتدار کو اپنا نشانہ بنائے ہوئے ہے۔ اس کی بہترین تمنا یہ ہوتی ہے کہ لوگوں کے اوپر اس کا حکم چلے۔ لوگوں کی گردنیں اس کی مٹھی میں ہوں۔ لوگوں کے درمیان اس کو سب سے اوپر جگہ ملے۔ اس کے مقابلہ میں لوگ بے اختیار ہوں اور اس کو لوگوں کی قسمتوں پر اختیار حاصل ہو۔ ________ یہ تینوں آدمی وہ ہیں جنہوں نے اپنے عمل کا نتیجہ اسی دنیا میں چاہا۔ ایسے لوگ دنیا میں خواہ جتنا بھی حاصل کر لیں، آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہیں۔

اس کے بعد وہ اللہ کا بندہ ہے جو آخرت کو چاہنے والا ہے اور آخرت کی راہ میں اپنی سرگرمیوں کو لگائے ہوئے ہے۔ لوگوں کا عمل بازار میں ہوتا ہے اور اس کا عمل فطرت کی خاموش کائنات میں ۔ لوگ مجمع عام میں اپنی سرگرمیاں دکھاتے ہیں اور وہ اپنی تنہائیوں میں مصروف عمل ہوتا ہے۔ لوگ دنیا کی عزت و کامیابی پا کر خوش ہوتے ہیں اور وہ اس امید میں جی رہا ہوتا ہے کہ اس کا مالک اس کو اپنی رحمتوں کے سائے میں لے لے۔ بظاہر وہ اسی دنیا میں دکھائی دیتا ہے مگر اپنی سوچ اور جذبات کے اعتبار سے وہ آخرت میں جیتا ہے۔ لوگ سامنے کی دنیا میں گم ہوتے ہیں اور وہ خدا کی چھپی ہوئی کائنات میں۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1981 All issues

Printed page