حقیقت نہ کہ صورت
الرسالہ، جون ۱۹۸۱، صفحہ ۳۹
حقیقت نہ کہ صورت
حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ اعمال کا دار ومدار نیت پر ہے (الاعمال بالنیات) اس سے معلوم ہوا کہ دین میں جو اعمال بتائے گئے ہیں وہ محض اپنی شکل کے اعتبار سے مطلوب نہیں ہیں بلکہ حقیقت کے اعتبار سے مطلوب ہیں۔ یعنی ہر عمل کی ایک روح ہے۔ کسی عمل میں اگر وہ روح پائی جائے جس کے لئے وہ عمل مقرر کیا گیا ہے تو اس عمل کی قیمت ہے اور اگر وہ روح نہ پائی جائے تو پھر اس عمل کی کوئی قیمت اللہ کے یہاں نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر وہ اعمال جن پر بڑے بڑے ثواب بتائے گئے ہیں انھیں کے بارے میں بالکل دوسرے قسم کے اقوال بھی وارد ہیں۔ مثلاً قرآن خدا کی کتاب ہے اور اس کو پڑھنا بہت ثواب ہے۔ اگر اسی کے ساتھ حدیث میں آیا ہے کہ بہت سے قرآن پڑھنے والے ایسے ہیں کہ قرآن ان پر لعنت کرتا ہے (ربّ تال للقرآن والقرآن یلعنہ) نماز اہم ترین عبادت ہے مگر حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ وہ نماز نماز نہیں جس میں خشوع نہ ہو (لا صلاة لمن لم يخشع) روزہ کا اجر اللہ کے یہاں بہت ہے مگر اسی کے ساتھ حدیث بتاتی ہے کہ بہت سے روزہ دار ایسے ہیں کہ روزہ سے ان کو بھوک پیاس کے سوا اور کچھ نہیں ملتا (کم من صائم ليس له من صيامه الا الجوع والعطش) اللہ کی راہ میں خرچ کرنا بہت ثواب کی چیز ہے مگر حدیث میں ہے کہ جس نے دکھانے کے لئے صدقہ کیا اس نے شرک کیا (من تصدق يرا في فقد اشرك) قربانی بہت اعلیٰ عبادت ہے مگر قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ اللہ کو تمھار گوشت اور خون نہیں پہنچتا بلکہ تمھارا تقویٰ پہنچتا ہے (لن ينال الله لحومها ولا د ماؤها ولكن يناله التقوى منكم)
اسی طرح کے نصوص اکثر اعمال کے بارے میں وارد ہیں۔ حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تمھارے جسموں اور تمھاری صورتوں کو نہیں دیکھتا بلکہ تمھارے دلوں کو دیکھتا ہے (ان الله تعالى لا ينظر الى اجسامكم ولا الى صوركم ولكن ينظر الى قلوبكم مسلم) گویا صورت اور جسم کی سطح پر جو عمل ہوتا ہے وہ اللہ کا مطلوب عمل نہیں ہے۔ اللہ کا مطلوب عمل وہ ہے جو دل کی سطح پر کیا جائے۔ اگر آپ کو کسی سے محبت ہے تو دیکھنے میں آپ ظاہری اعضاء سے اس سے محبت کرتے ہیں۔ مگر محبت کا واقعہ حقیقتاً دل کے اندر ہوتا ہے نہ کہ زبان کے الفاظ یا ہاتھ پاؤں کی حرکت کی سطح پر۔ یہی حال اسلامی اعمال کا ہے۔ خدا کے یہاں وہی عمل قیمت والا ہے جو دل سے نکلا ہو۔ جو روح کے اندر پیدا ہونے والی ہلچل کا خارجی ظہور ہو۔ جس میں آدمی کی اندرونی ہستی ڈھل گئی ہو۔ مگر آدمی کا عمل محض اوپر ہی عمل ہو، اس کے دل کی دھڑکنیں اس میں شامل نہ ہوئی ہوں تو ایسے عمل کی خدا کے یہاں کوئی قیمت نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1981 All issues