تبصرہ
الرسالہ، جون ۱۹۸۱، صفحہ ۴۳
۱۔ اس انقلابی تفسیر کی بنیاد تمام تصرف فرعون کے درباریوں کے اس مختصر جملہ پر ہے کہ موسیٰ چاہتے ہیں کہ تم کو تمھارے ملک سے نکال دیں (۱۱۰) سوال یہ ہے کہ حضرت موسیٰ کی دعوت خود حضرت موسیٰ کی تقریر سے معلوم ہوگی یا آنجناب کے مخالفین کی باتوں سے جن کے بارے میں قرآن کہتا ہے کہ وہ موسیٰ کی نشانیوں پر ظلم کرتے رہے (۱۰۳) ظلم کے معنی ہوتے ہیں وضع اتنیٰ فی غیر محلہ۔ یعنی انھوں نے حضرت موسیٰ کی باتوں کو اس کے موقع محل سے ہٹا کر بیان کیا اور ان کو خود ساختہ معنی پہنائے۔
۲۔ فرعون کے دربار میں جس طرح حضرت موسیٰ پر یہ الزام لگایا گیا کہ وہ مصری قوم کو اس کے ملک سے نکال دینا چاہتے ہیں اسی طرح انھوں نے یہ بھی کہا کہ موسیٰ جادو گر ہیں (۱۰۹) وہ زمین میں فساد پیدا کرنا چاہتے ہیں (۱۲۷) مصری قوم پر جو مصیبتیں آ رہی ہیں وہ موسیٰ اور ان کے ساتھیوں کی نحوست کی وجہ سے آ رہی ہیں (۱۳۱) تو کیا یہ سب باتیں بھی محض فرعون اور اس کے درباریوں کے کہنے کی وجہ سے درست مان لی جائیں گی۔
۳۔ قرآن کہتا ہے کہ حضرت موسیٰ نے فرعون کے سامنے جو مطالبہ پیش کیا وہ یہ تھا کہ میں خدا کا پیغمبر ہوں۔ اس کی طرف سے اپنی پیغمبری کی نشانیاں لے کر آیا ہوں لہٰذا تو بنی اسرائیل کو میرے ساتھ بھیج دے (۱۰۵) قرآن کی اس واضح نص کے مطابق حضرت موسیٰ اپنی قوم کے ساتھ ملک مصر سے باہر چلے جانا چاہتے تھے۔ پھر جب وہ خود ہی فرعون کے ملک سے نکل رہے تھے تو فرعون کو اس کے ملک سے نکالنے کا سوال کہاں سے پیدا ہو گیا۔ ۴۔ فرعون کے درباریوں نے حضرت موسیٰ پر یہ الزام لگایا تھا کہ وہ مصری قوم کو اس کے ملک سے نکال دینا چاہتے ہیں (ان یخرجکم من ارضکم ۱۱۰) اس کے بعد جب جادو گر تائب ہو کر حضرت موسیٰ پر ایمان لائے تو فرعون جادو گروں کے بارے میں بھی یہی الفاظ کہتا ہے کہ یقیناً یہ کوئی خفیہ سازش تھی جو تم لوگوں نے اس شہر میں کی تاکہ تم اس کے باشندوں کو یہاں سے نکال دو زلنر جیو ا منہ اہلھا ۱۲۳) اب کیا اس تفسیر کے حامی یہ دعویٰ کریں گے کہ جادو گروں سے مقابلہ پیش آنے سے پہلے حضرت موسیٰ اور جادو گروں نے مل کر یہ خفیہ منصوبہ بنایا تھا کہ "مصر کے دار السلطنت میں اس کے مالکوں کو اقتدار سے بے دخل کر دیا جائے ۵۔ قرآن کی اگلی آیات سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ فرعون اور اس کے ساتھیوں نے مذکورہ بات محض شرارت میں کہی تھی۔ وہ آپ کی دعوت کو سیاسی معنی پہنا کر اپنے لوگوں کو ان کے خلاف بھڑکا دینا چاہتے تھے جیسا کہ ہر حکمران اپنے مخالفین کے ساتھ کیا کرتا ہے۔ چنانچہ فرعون اور اس کی قوم کو اللہ تعالیٰ نے جب آفتوں میں ڈالا تو اس وقت وہ اپنا شرارت کا کلمہ بھول گئے اور کہہ اٹھے : اے موسیٰ اپنے رب سے دعا کر۔ اگر وہ ہم پر سے یہ بلائیں ٹال دے تو ہم تمھاری بات مان لیں گے اور بنی اسرائیل کو تمھارے ساتھ مصر کے باہر بھیج دیں گے (لنو منن لك و لنرسلن معك بني اسرائيل ۱۴۳)
سورہ اعراف کی مذکورہ آیات میں یہ تعلیم ہے کہ اللہ کا نام لے کر کوئی بات حق کے سوا نہ کہی جائے (۱۰۵) مگر عجیب بات ہے کہ انھیں آیتوں کو اللہ کا نام لے کر حق کے سوا بات کہنے کا ذریعہ بنا لیا گیا۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1981 All issues