قرآن فہمی
الرسالہ، جون ۱۹۸۱، صفحہ ۴۴
قرآن فہمی
علامہ زمخشری نے لکھا ہے کہ ایک شخص کے سامنے قرآن کی یہ آیت پڑھی گئی : یَوْمَ نَدْعُو اِکُلَّ اُنَاسٍ بِإِمَامِهِمْ جس دن ہم بلائیں گے تمام آدمیوں کو ان کے مقتدا کے ساتھ۔ اس آدمی نے آیت کا مطلب یہ نکالا: جس دن ہم بلائیں گے سب کو ان کی ماؤں کے ساتھ۔ امام کا لفظ جو مفرد تھا، اس کو اُم (ماں) کی جمع سمجھ لیا گیا۔ حالاں کہ وہ شخص اگر قواعد صرف سے واقف ہوتا تو اس کو معلوم ہو جاتا کہ اُم کی جمع امام نہیں آتی۔ اسی طرح مثلاً لفظ مسیح دو مادوں سے مشتق ہو سکتا ہے۔ اور دونوں کے الگ الگ معنی ہیں۔ اس کا اشتقاق مسح سے ہو تو اس کے معنی چھونے اور تر ہاتھ کسی چیز پر پھیرنے کے ہوں گے۔ اور اگر مساحت سے ہو تو اس کے معنی پیمائش کے ہوں گے، وغیرہ انھیں وجوہ سے اہل فن نے قرآن کی تفسیر کے لئے پندرہ علوم پر مہارت ضروری بتائی ہے : لغت ، جس سے قرآن کے مفرد الفاظ کے معنی معلوم ہوسکیں۔ ۲۔
نحو ، یعنی اعراب کا علم، کیونکہ عربی زبان میں زبر زیر کے فرق سے معنی بدل جاتے ہیں۔ صرف ، صیغوں کے اختلاف کو جاننا۔
اشتقاق ، یعنی کون لفظ کس مادہ سے بنا ہے۔
علم معانی ، جس سے کلام کی ترکیبیں معنی کے اعتبار سے معلوم ہوتی ہیں۔ علم بیان ، جس سے کلام کا ظہور رخفا، تشبیہہ و کنایہ معلوم ہوتا ہے۔ علم بدیع ، جس سے کلام کی خوبیاں تعبیر کے اعتبار سے معلوم ہوتی ہیں۔ علم قرات ، کیونکہ مختلف قراتوں کی وجہ سے مختلف معنی معلوم ہوتے ہیں۔ علم عقائد ، تاکہ یہ معلوم ہو کہ کہاں ظاہر معنی مراد ہیں اور کہاں تاویل کی ضرورت ہے ۔ اصول فقہ، جس سے وجوہ استدلال واستنباط معلوم ہوتے ہیں۔
اسباب نزول، کیونکہ شان نزول جاننے سے آیت کے معنی زیادہ واضح ہوتے ہیں۔ علم ناسخ و منسوخ ، تاکہ منسوخ شدہ احکام معمول بہا سے ممتاز ہوسکیں۔ علم فقہ ، کیونکہ جزئیات کے احاطہ سے کلیات پہچانے جاتے ہیں۔ روایات ، یعنی وہ تفسیری روایات جو قرآن کی بعض آیات کی تفسیر کرتی ہیں۔ علم وہبی ، وہ علم خاص جس کی طرف اس حدیث میں اشارہ ہے مَنْ عَمِلَ بِمَا عَلِمَ وَرَّثَهُ اللهُ عِلْمَ مَا لَمْ يَعْلَمْ بعض لوگوں نے قرآن فہمی کے لئے اس سے کم یا اس سے زیادہ علوم بھی بیان کئے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ تمام
‹ Previous page Next page › Contents of June 1981 All issues