ماضی اور حال
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۱، صفحہ ۵
دربارِ ہمیں ۱۷۳۴ء میں اور مغل شہنشاہ دہلی کے دربار میں ۱۷۳۰ء میں کچھ علمی جھلکیاں دکھائی دیتی ہیں۔ مگر مسلم دنیا کا علمی زوال بدستور جاری رہا۔ اس کے لئے دوبارہ اپنے ماضی کی طرف واپس جانا ممکن نہ ہو سکا۔ موجودہ زمانہ میں تاریخ کے پہیہ نے الٹے رخ پر سفر شروع کیا ہے۔ پہلے مغرب کے لوگ مسلم دنیا میں علم سیکھنے کے لئے آتے تھے ، اب مسلمان علم سیکھنے کے لئے مغربی دنیا میں جا رہے ہیں۔ تاہم موجودہ زمانہ میں مسلمان مغرب کے تہذیبی مقلد تو بناے ہیں، وہ ان کے علمی ہم سرا بھی تک نہ ہو سکے۔
نوبل انعام یافتہ ڈاکٹر عبدالسلام نے ۱۰ نومبر ۱۹۸۰ء کو یونسکو کے زیر انتظام بلگرینڈ کے اجتماع میں تقریر کی۔ اس تقریر میں انھوں نے ایک واقعہ بتایا۔ کسی مغربی سائنس داں سے گفتگو کے دوران انھوں نے شکایت کی کہ مغربی ممالک مسلم ممالک کی سائنسی پس ماندگی کو دور کرنے کے لئے کافی مدد نہیں کرتے۔ مغربی سائنسداں نے اس کے جواب میں کہا: سلام ! کیا واقعہ یہ تم یہ سمجھتے ہو کہ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ان قوموں کو سنبھالیں ۔ ان کو مدد دیں، انھیں زندہ رکھیں جنھوں نے انسان کے علمی خزانہ میں ایک ذرہ برابر بھی کوئی تخلیق یا اضافہ نہیں کیا ہے :
Salam, do you really think we have an obligation to succour, aid and keep alive those nations, who have never created or added an iota to man's stock of knowledge. ڈاکٹر عبدالسلام اس تلخ حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ میرے دل کو اس وقت شدید جھٹکا لگتا ہے جب میں جدید طرز کے ایک اسپتال میں داخل ہوتا ہوں اور دیکھتا ہوں کہ پنسلین سے لے کر زندگی بچانے والے دوسرے طبی سامان جو وہاں ہیں ان میں سے کسی چیز کی دریافت یا ترقی میں مسلمانوں کا کوئی حصہ نہیں۔ جب صورت حال یہ ہو تو ہم کسی طرح یہ امید نہیں کر سکتے کہ دوسروں کی مدد میں جدید دنیا کی ترقی یافتہ قوم بن سکتی ہے۔ جو قوم دنیا کو کچھ نہ دے رہی ہو اس کو یہ امید بھی نہ کرنی چاہئے کہ دنیا اسے کوئی چیز دے گی۔ مسلم قوموں کے لئے واحد راستہ یہ ہے کہ وہ سائنس اور ٹیکنالوجی میں خود اپنی کوشش سے آگے بڑھیں ۔ عربوں کی بے پناہ دولت بھی اس معاملہ میں ذاتی کوشش کا بدل نہیں بن سکتی۔ آج مسلم ممالک بڑے پیمانہ پر مشینیں اور ہتھیار مغربی ممالک سے درآمد کر رہے ہیں مگر اس قسم کی مشینری درآمدان کے اصل مسئلہ کا حل نہیں ۔ کیونکہ اس سے پہلے فنی بنیاد (Technical Base) کی ضرورت ہے اور وہ کسی مسلم ملک کے پاس موجود نہیں ۔ ایک سائنس داں نے بجا طور پر کہا ہے کہ تمام بنیادی علوم ایک دوسرے سے متعلق علوم ہیں: All basic science is relevant science حقیقت یہ ہے کہ تمام علوم میں دستگاه حاصل کرنے کے بعد ہی کوئی قوم ترقی کر سکتی ہے نہ کہ محض چند علوم میں۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1981 All issues