Al-Risala · July 1981 · page 9

کوئی چیز مشکل نہیں

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۱، صفحہ ۹

میں جنگی تباہ کاریوں کی تصویریں بھی لگی ہوئی ہیں۔ ان چیزوں کو دیکھنے کے لئے ہر سال تقریباً ۷ لاکھ جاپانی ہیروشیما آتے ہیں۔ گفتگو سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ عام جاپانی کے دل میں امریکہ کے خلاف نفرت چھپی ہوئی موجود ہے۔ تاہم وہ اپنے عملی رویہ میں اس کا اظہار ہونے نہیں دیتے ۔ انھوں نے اپنے مخالفانہ جذبات پر حقیقت پسندی کا پروہ ڈال رکھا ہے ۔ جاپانیوں کے اسی مزاج کا یہ نتیجہ ہے کہ جنگ کے بعد بہت تھوڑی مدت میں انھوں نے دوبارہ غیرمعمولی ترقی کرلی ۔ ان کے یہاں نہ تیل نکلتا ہے اور نہ ان کے پاس معدنیات کی کانیں ہیں ۔۔ ان کو بیش تر خام مال باہر سے حاصل کرنا پڑتا ہے۔ اس کے باوجود جاپان آج اپنے اعلیٰ سامانوں کی بدولت دنیا کی مارکیٹ پر چھایا ہوا ہے۔

مسٹر خوشونت سنگھ نے جاپان میں وکیلوں کی بابت معلوم کیا۔ انھیں بتایا گیا کہ یہاں وکالت کے پیشہ کا حال اچھا نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگوں کے درمیان جب کوئی نزاع پیدا ہوتی ہے تو وہ عدالت میں جانے کے بجائے باہمی گفتگو سے اس کو طے کرلیتے ہیں ۔ جب آدمی اپنی غلطی ماننے کے لئے تیار ہو تو جھکاؤ کبھی آگے نہیں بڑھتا۔ جھگڑا ختم نہ ہونے کی وجہ اکثر حالات میں یہ ہوتی ہے کہ ایک آدمی ایک طرفہ طور پر دوسرے کو الزام دیتا ہے۔ اس کی وجہ سے دوسرے کے اندر بھی ضد پیدا ہوجاتی ہے۔ اور مسئلہ بڑھتا چلا جاتا ہے۔ جب ایک فریق اپنی جانب کی غلطی مان لے تو دوسرے کے اندر بھی جھگڑا پیدا ہوگا اور مسئلہ وہیں کا وہیں ختم ہو جائے گا۔ اس حقیقت پسندانہ نقطہ نظر کا جاپان کو یہ بہت بڑا فائدہ ملا ہے کہ ایک جاپانی دوسرے جاپانی پر اعتماد کرتا ہے۔ ہندوستان جیسے ملکوں میں تجارتی معاہدے اور تجارتی خط وکتابت عام طور پر ایسے ماہرین انجام دیتے ہیں جو بہت بندھے ہوئے الفاظ اور قانونی پہلوؤں کی کامل رعایت کرنے والی زبان لکھنا جانتے ہیں ، مگر جاپانی اپنا وقت اس قسم کے تحریری مسودات تیار کرنے میں ضائع نہیں کرتے ۔ امریکہ میں قانون دانوں کی تعداد ۵۰ ہزار ہے جب کہ جاپان میں قانون دانوں کی تعداد صرف ۱۱ ہزار ہے۔ جاپان میں ایسے لفظی ماہرین کا زیادہ کام ہی نہیں۔ جاپان کے اکثر تجارتی ادارے زبانی معاہدوں پر بھروسہ کرتے ہیں۔ اولاً اس کا رواج جاپانیوں کے باہمی تعلقات میں ہوا ، مگر اب باہر کے تاجر بھی یہ سمجھنے لگے ہیں کہ دہ جاپانی کے منھ سے بولے ہوئے لفظ پر بھروسہ کر سکتے ہیں۔ قانونی بندشوں سے اس آزادی کا یہ فائدہ ہے کہ کام تیزی سے ہوتا ہے اور غیر ضروری لفظی پابندیاں کارکردگی میں حارج نہیں بنتیں۔ جاپان کے اس مزاج نے اس کو باہمی اتحاد کا تحفہ دیا ہے۔ اور اتحاد بلا شبہ سب سے بڑی طاقت ہے۔ جاپان کی ترقی کا راز جاپانیات کے ایک ماہر نے ان لفظوں میں بیان کیا ہے۔

Never quarreiling amongst themselves, always making everything together آپس میں کبھی نہ جھگڑنا، ہر کام ہمیشہ مل جل کر کرنا (ہندوستان ٹائمز ۳ اپریل ۱۹۸۱ء)

‹ Previous page Next page › Contents of July 1981 All issues

Printed page