Al-Risala · July 1981 · page 40

عبادت کی روح

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۱، صفحہ ۴۰

عبادت کی روح

"نماز روزہ الگ چیز ہے اور معاملہ الگ چیز"، ایک صاحب نے کہا "نماز روزہ میں تو میں خدا کے حکم پر چلتا ہوں مگر جب کوئی دنیا داری کا معاملہ ہو تو اس کو تو دنیا دارانہ طریقہ سے حل کرنا پڑتا ہے"، مذکورہ شخص نے یہ بات جس طرح صفائی کے ساتھ کہہ دی اس طرح ہر آدمی نہ کہے گا۔ مگر اس میں شک نہیں کہ آج ہر آدمی اسی اصول پر عمل کر رہا ہے۔ وہ نماز روزہ کو تو انہیں آداب و قواعد کے ساتھ دہرانے کی کوشش کرتا ہے جیسے خدا نے بتایا ہے۔ مگر لوگوں کے ساتھ معاملہ کرنے کے وقت اس طرح معاملہ کرتا ہے جس طرح اس کا جی چاہتا ہے کہ معاملہ کیا جائے۔ وہ نماز روزہ کے وقت اپنے کو پابند سمجھتا ہے اور اس کے بعد اپنے کو بالکل آزاد ۔ حالاں کہ نماز روزہ اسی وقت نماز روزہ ہے جب کہ اس کی روح معاملات اور باہمی سلوک میں ظاہر ہو۔

لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ نماز روزہ کو اپنے وقت پر ادا کرنے کا اہتمام کرتے ہیں۔ مگر جب ان کا پڑوسی ان سے شکایت کرتا ہے کہ آپ کے فلاں عمل سے مجھ کو اور میرے گھر والوں کو تکلیف پہنچی ہے تو وہ صرف اس وقت اس کو قابل لحاظ سمجھیں گے جب کہ پڑوسی طاقت ور اور صاحب حیثیت ہو، اگر پڑوسی کم زور ہو تو وہ اس کی شکایت پر اتنی توجہ بھی نہیں دیں گے کہ اس کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ یہی حال تمام معاملات کا ہے۔ لوگ نماز روزہ کا تو اہتمام کریں گے مگر نماز روزہ کے تقاضے پورے نہ کریں گے ۔ جب ان کی کسی سے شکایت ہو جائے تو وہ تواضع کے بجائے گھمنڈ کا مظاہرہ کریں گے۔ اگر کسی کے خلاف کچھ کرنا ہو تو وہ صبر کے بجائے بے صبری پر اتر آئیں گے۔ جب وہ کسی سے وعدہ کریں گے تو مشکل ہی سے ان کو یہ دھیان رہے گا کہ اس کو پورا کرنا ہے۔ جب وہ کسی سے بگڑ جائیں تو وہ بالکل بھول جائیں گے کہ کسی او پر ظلم کرنا در حقیقت خود اپنے خلاف خدا کے سامنے کھلی ہوئی حجت قائم کر رہا ہے۔ نماز میں آدمی خدا کے سامنے جھکتا ہے۔ روزہ میں آدمی خدا کے حکم سے اپنی انتہائی ضروری چیزوں کو چھوڑ دیتا ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ آدمی کی زندگی اس دنیا میں خدا کے حکموں کی پابند ہوگی نہ کہ اس کے حکموں سے آزاد۔ اب جو شخص نماز روزہ تو کرے مگر زندگی کے معاملات میں جب خدا کا ایک حکم سامنے آئے تو وہ اس کو ٹھکرا دے اور اس کے بجائے نفس کے تقاضوں پر چلنے لگے تو گویا اس نے نماز پڑھ کر بھی نماز نہیں پڑھی۔ اس نے روزہ رکھ کر بھی روزہ نہیں رکھا۔ کیونکہ اس کا روزہ اور نماز محض ظاہری روزہ اور نماز تھا نہ کہ حقیقی روزہ اور نماز۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1981 All issues

Printed page