Al-Risala · July 1981 · page 15

کل کو جانئے

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۱، صفحہ ۱۵

کل کو جانئے

ضیاء الرحمن (۱۹۸۱ - ۱۹۳۶) سابق صدر بنگلہ دیش ڈھاکہ سے چاٹگام گئے۔ وہاں وہ ۳۰ مئی ۱۹۸۱ کو سرکاری ریسٹ ہاؤس میں آرام کر رہے تھے کہ رات کے وقت ان پر حملہ کر کے انہیں ہلاک کر دیا گیا۔ ان کو ہلاک کرنے والا بنگلہ دیش کا ایک فوجی افسر میجر جنرل منظور تھا۔ میجر جنرل منظور نے یہ گمان کیا تھا کہ صدر ضیاء الرحمن کو اقتدار سے ہٹانے کے بعد وہ بنگلہ دیش کی حکومت پر قبضہ کر لیں گے۔ مگر ان کا اندازہ غلط نکلا۔ فوج کے ایک دستہ کے سوا عام فوجیوں نے ان کا ساتھ نہیں دیا۔ صرف دو دن بعد ۲ جون ۱۹۸۱ کو مخالف فوجیوں نے انہیں گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

جنرل منظور کا جو انجام ہوا وہی اس دنیا میں ہر آدمی کا انجام ہو رہا ہے۔ کسی کا بظاہر فوج کی گولی کے ذریعہ ہوتا ہے اور کوئی فرشتوں کے ذریعہ موت کے انجام تک پہنچا دیا جاتا ہے۔ مگر کوئی اس سے سبق نہیں لیتا۔ کوئی " جنرل منظور " یہ نہیں سوچتا کہ اپنے حریف کو قتل کرنے کے اگلے ہی دن وہ بھی قتل کر دیا جائے گا۔ دوسرے کو موت کے گڑھے میں گرانے کے بعد وہ خود بھی لازمی طور پر موت کے گڑھے میں دھکیل دیا جائے گا۔

یہ دنیا امتحان کی جگہ ہے۔ اس دنیا میں ہر آدمی کو کسی نہ کسی دائرہ میں اقتدار دیا جاتا ہے۔ کسی کے اختیار کا دائرہ بڑا ہے اور کسی کا دائرہ چھوٹا ۔ مگر عجیب بات ہے کہ ہر آدمی اپنے دائرہ میں وہی بن جاتا ہے جو دوسرا اپنے دائرہ میں بنا ہوا ہے۔ یہاں ہر شخص " جنرل منظور " ہے۔ ہر شخص دوسرے کی کاٹ میں لگا ہوا ہے۔ ہر شخص دوسرے کی نفی پر اپنا اثبات کرنا چاہتا ہے۔ ہر شخص اپنی حیثیت کا غلط اندازہ کر کے سمجھتا ہے کہ اگر اس نے دوسرے کو اس کے مقام سے ہٹا دیا تو اس کا خالی مقام اسے مل جائے گا۔ وہ بھول جاتا ہے کہ جو چیز اس کا انتظار کر رہی ہے وہ کسی کا خالی مقام نہیں بلکہ خود اس کی اپنی قبر ہے۔

ہر شخص جو آج اپنے کو کامیاب سمجھتا ہے وہ کل اپنے کو ناکام دیکھنے پر مجبور ہوتا ہے۔ یہ واقعہ ہر روز ہو رہا ہے۔ مگر کوئی بھی شخص آج کے بعد آنے والے کل کو نہیں دیکھتا۔ ہر شخص اپنے " آج " کو جاننے کا ماہر ہے، کسی کو اپنے " کل " کی خبر نہیں۔

اپنے آج کو جاننے والو، اپنے کل کو جانو۔ کیونکہ بالآخر تم جس سے دوچار ہونے والے ہو وہ تمھارا کل ہے نہ کہ تمھارا آج۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1981 All issues

Printed page