انصاف کی جیت
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۱، صفحہ ۱۴
انصاف کی جیت
حضرت عمر بن عبدالعزیز (۱۰۱ ھ۔ ۶۲ ھ) پانچویں خلیفہ راشد ہیں۔ آپ کے خادم ابو امیہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک روز آپ کی اہلیہ سے کہا کہ مسور کی دال کھاتے کھاتے میرا برا حال ہو گیا ہے۔ خاتون نے جواب دیا: تمھارے خلیفہ کا بھی روز کا کھانا یہی ہے۔ آپ سے پہلے خلیفہ کی حفاظت کے لئے ایک سو سپاہی مقرر تھے، جب آپ خلیفہ ہوئے تو آپ نے سب کو دوسرے سرکاری کاموں میں لگا دیا اور فرمایا: میری حفاظت کے لئے قضا و قدر ہی کافی ہے۔ یہ اس شخص کا حال تھا جس کی سلطنت کے حدود سندھ سے لے کر فرانس تک پھیلے ہوئے تھے۔ آپ کی خلافت کے زمانہ کا واقعہ ہے کہ سمرقند کے باشندوں کا ایک وفد آیا۔ اس نے ایک فوجی سردار قتیبہ بن مسلم باہلی کے بارے میں یہ شکایت کی کہ اسلامی قاعدہ کے مطابق انھوں نے ہم کو پیشگی تنبیہ نہیں کی اور ہمارے شہر میں اچانک اپنی فوجیں داخل کر دیں۔ لہٰذا ہمارے ساتھ انصاف کیا جائے۔ سمرقند کی فتح حضرت عمر بن عبدالعزیز سے پہلے ہوئی تھی۔ اور اب اس پر سات سال گزر چکے تھے۔ مگر آپ نے انصاف کے تقاضے کو پورا کرنا ضروری سمجھا۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے عراق کے حاکم کو لکھا کہ سمرقند کے لوگوں کے مقدمہ کی سماعت کے لئے ایک خصوصی قاضی مقرر کریں۔ عراق کے حاکم نے فوراً حکم کی تعمیل کی اور جمیع بن حاضر الباہلی کو اس کا قاضی مقرر کیا۔ ان کی عدالت میں مقدمہ پیش ہوا۔ دونوں فریق نے آزادانہ طور پر اپنے اپنے دلائل پیش کئے ۔ آخر میں قاضی نے سمرقند والوں کی شکایت کو درست قرار دیتے ہوئے فیصلہ سنایا کہ ۔ مسلمانوں کی فوج سمرقند کو چھوڑ کر باہر آجائے اور اہل سمرقند کو ان کا قلعہ اور تمام دوسری چیزیں واپس کر دی جائیں۔ اس کے بعد اسلامی قاعدہ کے مطابق مسلمانوں کا فوجی سردار ان کے سامنے ضروری شرطیں پیش کرے۔ اگر وہ تمام شرطوں کو ماننے سے انکار کردیں تو پھر اس کے بعد ان سے جنگ کی جائے۔ اسلامی فوج اس وقت فاتحانہ حیثیت رکھتی تھی۔ اس نے چین جیسے ملک کے بادشاہوں کو بھی ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر دیا تھا۔ مگر جب قاضی نے اپنا فیصلہ سنایا تو اسلامی فوج کے سردار نے کسی بحث کے بغیر اس کو مان لیا۔ اس نے فوراً حکم دیا کہ پوری فوج سمرقند چھوڑ کر نکل آئے۔ تاہم اس پر عمل درآمد کی نوبت نہیں آئی۔ سمرقند کے لوگوں نے جب دیکھا کہ مسلمان اس قدر با اصول اور انصاف پسند ہیں تو وہ حیران رہ گئے۔ اس سے پہلے انھوں نے کبھی ایسے بے لاگ انصاف کا تجربہ نہیں کیا تھا۔ انھوں نے محسوس کیا کہ مسلم فوج کا آنا ان کے لئے رحمت کا آنا ہے۔ چنانچہ انھوں نے اپنی مرضی اور خوشی سے مسلم حکومت کو قبول کر لیا۔ وہ کہہ اٹھے: خوش آمدید ہم آپ کے مطیع و فرماں بردار ہیں (مرحبا سمعنا و اطعنا، ، فتوح البلدان للبلاذری)
‹ Previous page Next page › Contents of July 1981 All issues