Al-Risala · January 1981 · page 31

جنت المعلیٰ

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۱، صفحہ ۳۱

میں کمال درجہ رکھتے تھے۔ حجاز اور عراق کے لوگوں نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کرلی تھی۔ تاہم وہ عبدالملک بن مروان کے عامل حجاج بن یوسف سے جنگ کرتے ہوئے ۷۳ھ میں شہید ہو گئے حضرت عبداللہ بن زبیر کی قبر ایک ایسے بلند انسان کی یاد دلاتی ہے جو حق کے آگے پوری طرح جھکا ہوا تھا مگر وہ ظلم اور بے انصافی کے آگے جھکنا نہیں جانتا تھا۔

۶- ابو جعفر منصور (۱۵۸-۱۵۰ھ) عباسی خلفاء میں ایک نہایت قابل اور مدبر خلیفہ تھا۔ یہی خلیفہ ہے جس نے عراق کے شہر بغداد کی بنیاد رکھی اور اس کو اتنی ترقی دی کہ اپنے وقت میں وہ علم اور سیاست دونوں اعتبار سے دنیا کا سب سے بڑا مرکز بن گیا۔ اس کے زمانہ میں عجمی زبانوں کی کتابوں کے ترجمے کثرت سے عربی زبان میں ہوئے۔ سنسکرت کی کتاب کا مشہور عربی ترجمہ کلیلہ و دمنہ بھی اسی کے زمانہ میں ہوا۔ تمام حکمرانوں کی طرح اگر چہ اس نے بھی اپنے سیاسی حریفوں پر مظالم کئے اور ان کو قتل کرایا۔ تاہم پر امن رعایا کے لئے وہ ایک بہترین حکمران کی حیثیت رکھتا تھا، کہا جاتا ہے کہ ابو جعفر منصور موٹا کپڑا پہنتا تھا۔ حتی کہ بعض اوقات اس کے کرتے میں پیوند دکھائی دیتے تھے۔ اسی بنا پر جعفر بن محمد صادق نے اس کے بارے میں کہا تھا: خدا کا شکر ہے کہ اس نے منصور کو بادشاہ ہونے کے باوجود اپنی ذات کے لئے فقر میں مبتلا کر دیا ہے۔

ابو جعفر منصور ذی قعدہ ۱۵۸ھ میں بغداد سے مکہ کے لئے حج کے ارادہ سے روانہ ہوا۔ مگر وہ مکہ کے قریب پہنچا تھا کہ سخت بیمار ہو گیا اور وہیں حالت سفر میں اس کا انتقال ہو گیا۔ وفات کے بعد اس کو قریبی قبرستان جنت المعلی میں دفن کر دیا گیا۔

۷- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں چار لڑکیاں پیدا ہوئیں۔ زینب، رقیہ، ام کلثوم، فاطمہ یہ چاروں صاحبزادیاں حضرت خدیجہ کے بطن سے تھیں ۔ ان میں سے ابتدائی تین صاحبزادیاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہی میں انتقال کر گئیں ۔ حضرت فاطمہ نے آپ کی وفات کے چھ ماہ بعد تقریباً ۳۰ سال کی عمر میں انتقال کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لڑکوں کی تعداد تین تھی ۔ تینوں لڑکے بچپن ہی میں انتقال کر گئے۔ ان میں سے قاسم اور عبداللہ حضرت خدیجہ کے بطن سے پیدا ہوئے اور مکہ کے ابتدائی زمانہ میں ان کا انتقال ہو گیا۔ تیسرے صاحبزادہ ابراہیم حضرت ماریہ قبطیہ کے بطن سے پیدا ہوئے۔ انھوں نے تقریباً ڈیڑھ سال کی عمر میں سنہ ۸ھ میں وفات پائی اور جنت المعلی میں دفن کئے گئے۔ ابراہیم بہت تندرست اور ہو نہار تھے وہ شکل و صورت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت زیادہ ملتے جلتے تھے۔ جب ان کا انتقال ہونے لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو گود میں اٹھا لیا اور کہا: اے ابراہیم، اللہ کے فیصلہ کے مقابلہ میں ہم تمھارے کچھ کام نہیں آسکتے ( یا ابراہیم لا نغنی عنک من اللہ شیئا)

نوٹ: یہ تقریر ۳ نومبر ۱۹۸۰ء کو آل انڈیا ریڈیو نئی دہلی سے نشر کی گئی۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1981 All issues

Printed page